اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی سیاست نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
اسی معاملے پر جیو نیوز کے پروگرام میں سوال کیے جانے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ برہم ہو گئے اور اینکر شہزاد اقبال سے کہا کہ انہیں اس معاملے پر ان سے سوال کرنے کا حق نہیں۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران اینکر نے رانا ثناء اللہ سے سوال کیا کہ کیا پیپلز پارٹی پر کرپشن کا الزام ایک سنجیدہ الزام ہے یا یہ محض سیاسی بیان بازی ہے؟ اس سوال پر رانا ثناء اللہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو اس بارے میں مجھ سے کچھ پوچھنے کا حق نہیں ہے، یہ معاملہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے۔”
میڈیا پر بھی تنقید
سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میڈیا کی تربیت ہی اس انداز میں ہوئی ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی جماعتوں کو برا دکھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
وزیراعظم کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن اور ڈیفالٹ سے محفوظ ہوا، رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات میڈیا ایسے معاملات کو غیر ضروری طور پر اچھالتا ہے، جس سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوتا ہے۔
کرپشن کے الزامات پر سوال
پروگرام کے دوران اینکر نے ایک اور سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ذمہ دار وفاقی وزیر یہ الزام عائد کرے کہ پاکستان کے 3 ہزار ارب روپے کرپشن کے ذریعے دبئی منتقل کیے گئے ہیں تو کیا میڈیا کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس پر سوال اٹھائے؟
اس سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر ان الزامات کی انکوائری ہوگی تو متعلقہ افراد اس کا جواب بھی دیں گے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
حالیہ دنوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اختلافات اب عوامی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے اتحادی معاملات پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تحقیقات کی صورت میں حقائق سامنے آئیں گے
رانا ثناء اللہ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ اگر الزامات کی باقاعدہ تحقیقات ہوتی ہیں تو متعلقہ فریق اس کا جواب دیں گے، اس لیے قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ معاملہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے یا اس پر عملی کارروائی بھی ہوتی ہے۔