اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلی بشپ ائیرپورٹ توسیعی منصوبہ مسترد کیے جانے کے بعد صوبائی حکومت سے واٹر فرنٹ کی زمین واپس میونسپلٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
میئر نے پیر کے روز فوری نوعیت کی تحریک جمع کراتے ہوئے کہا کہ لٹل ناروے پارک اور ٹورنٹو آئی لینڈز کو دوبارہ شہر کے کنٹرول میں دیا جائے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ سٹی کونسل پہلے بھی اس اقدام کی مخالفت کر چکی ہے اور اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
زمین واپسی کا مطالبہ
اولیویا چاؤ نے کہا کہ ٹورنٹو کے شہریوں کے واٹر فرنٹ کا مستقبل شہر کے مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت ٹورنٹو آئی لینڈز اور لٹل ناروے پارک کا انتظام دوبارہ شہر کے حوالے کرے۔میئر کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کو ڈپٹی میئر اوسمہ ملک نے بھی سپورٹ کیا ہے۔
ائیرپورٹ منصوبہ مسترد
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کینیڈا کے وزیر ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن نے بلی بشپ ائیرپورٹ پر بڑے جیٹ طیاروں کی آمد و رفت کے لیے توسیعی منصوبہ آگے نہ بڑھانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں :ٹورنٹو میں حماس سے مبینہ تعلق رکھنے والے شخص پر دہشت گردی کا مقدمہ، احتجاجی مظاہروں سے متعلق الزام
وفاقی حکومت نے کہا کہ فی الحال توجہ صرف ائیرپورٹ میں پہلے سے منظور شدہ حفاظتی اقدامات پر رہے گی۔حکام کے مطابق عوامی مشاورت کے دوران 87 ہزار سے زائد آراء موصول ہوئیں، جن میں تقریباً 87 فیصد افراد نے منصوبے میں تبدیلیوں کی مخالفت کی۔
فورڈ حکومت کا منصوبہ
اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ کی حکومت نے بلی بشپ ائیرپورٹ کے رن وے کو مزید بڑھانے کی تجویز دی تھی۔منصوبے کے تحت رن وے کو تقریباً 600 میٹر مزید توسیع دینے کی بات کی گئی تھی، جس پر ماحولیاتی گروپس اور مقامی شہریوں نے شور، آلودگی، ٹریفک اور رہائشی مسائل کے خدشات ظاہر کیے تھے۔
فورڈ حکومت کا مؤقف تھا کہ توسیعی منصوبہ صوبے کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس سے اربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
بل 110 کا تنازع
رپورٹس کے مطابق اونٹاریو حکومت نے جون میں بل 110 منظور کیا تھا، جس کے ذریعے صوبے کو ٹورنٹو آئی لینڈز کی زمینوں پر زیادہ اختیار حاصل ہو گیا۔
صوبائی حکومت نے کہا تھا کہ وہ صرف ضروری زمین استعمال کرے گی، تاہم ٹورنٹو انتظامیہ اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔
ٹورنٹو میئر نے بھی اس قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہر کے واٹر فرنٹ سے متعلق فیصلوں میں مقامی لوگوں کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی مخالفت
ائیرپورٹ توسیعی منصوبے کے خلاف مختلف شہری تنظیموں نے مہم چلائی تھی۔ماحولیاتی گروپس اور مقامی رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ منصوبے سے شور، فضائی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔وفاقی فیصلے کے بعد سینکڑوں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر منصوبہ مسترد ہونے پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔
صوبہ اب بھی قائم
وفاقی حکومت کے فیصلے کے باوجود اونٹاریو حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ائیرپورٹ توسیع کے منصوبے پر کام جاری رکھے گی۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ پربمیت سنگھ سرکاریہ کا کہنا ہے کہ منصوبہ روزگار، کاروبار اور سفری سہولیات میں اضافہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شور، ماحولیات اور عوامی مقامات کے تحفظ سمیت تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھے گی۔
ماہرین کی رائے
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹورنٹو پیرسن انٹرنیشنل ائیرپورٹ شہر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ماہرین کے مطابق بلی بشپ ائیرپورٹ کا کردار محدود نوعیت کا ہے اور رن وے میں بڑی توسیع ضروری نہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بھی وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈگ فورڈ حکومت سے بل 110 واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔