اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کی ریاست نیو جرسی میں ایک حیرت انگیز اور دلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 53 برس قبل ایک نو سالہ بچی کی جانب سے بوتل میں بند کرکے سمندر میں بہایا گیا پیغام اچانک برآمد ہوگیا۔
نصف صدی سے زائد عرصے تک پانیوں کا سفر کرنے والی اس بوتل نے نہ صرف دریافت کرنے والے شخص کو حیران کردیا بلکہ سوشل میڈیا کی مدد سے اس پیغام کی اصل لکھنے والی بچی کے خاندان تک بھی پہنچ گئی۔
صفائی مہم کے دوران حیران کن دریافت
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو جرسی کے دلدلی علاقے میں ماحول دوست تنظیم دی ٹائیڈ لینڈز انیشی ایٹو کے شریک بانی جان کاؤٹرمین معمول کی صفائی مہم میں مصروف تھے۔ اس دوران انہیں کیچڑ میں دبی ایک شیشے کی بند بوتل نظر آئی۔
ابتدا میں انہوں نے اسے عام کچرا سمجھا لیکن جب بوتل کھول کر اندر موجود کاغذ نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو 20 اگست 1973 کو ایک کمسن بچی نے سمندر میں بہایا تھا۔
اغوا، شارک اور اسفنج کے ماہی گیر، بچی کا دلچسپ پیغام
بوتل میں موجود ہاتھ سے لکھے گئے پیغام نے سب کو مسکرا دیا۔ پیغام میں نو سالہ لاری بلیئر نے مزاحیہ انداز میں لکھا تھا ۔
"یہ بوتل 20 اگست 1973 کو اوشن سٹی کے سیکنڈ اسٹریٹ بیچ سے اس وقت سمندر میں بہائی گئی جب میرے اغوا کار مجھے بحرِ اوقیانوس کے ساحل سے دور ایک جزیرے پر لے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :
براہِ کرم میرے خاندان کو اطلاع دیں کہ بے رحم اسفنج کے ماہی گیر مجھے شارک سے بھرے پانیوں میں غوطے لگانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ مہربانی کرکے یہ پیغام میرے گھر کے پتے پر واپس بھیج دیں۔ شاید آپ نے میری جان بچا لی ہو۔ شکریہ، لاری بلیئر۔”
اگرچہ پیغام میں اغوا اور خطرناک حالات کا ذکر تھا لیکن یہ دراصل ایک معصوم بچی کی تخیل پر مبنی مزاحیہ کہانی تھی جسے اس نے سمندر میں بہانے کے لیے تحریر کیا تھا۔
سوشل میڈیا نے 53 سال پرانی تلاش مکمل کردی
بوتل ملنے کے بعد جان کاؤٹرمین نے اس پیغام کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور امید ظاہر کی کہ شاید کسی کو اس پیغام کی مصنفہ یا اس کے خاندان کے بارے میں معلومات ہوں۔
چند ہی دنوں میں یہ پوسٹ ہزاروں افراد تک پہنچ گئی اور بالآخر لاری بلیئر کی بہن ایلیسن اسپینسر نے اسے دیکھ لیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ واقعی ان کی بہن کی ہی تحریر ہے جو اس وقت صرف نو سال کی تھی اور بچپن میں ایسی تخیلاتی کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی تھی۔
بوتل میں بند پیغامات کی دلچسپ روایت
ماہرین کے مطابق بوتل میں پیغام بند کرکے سمندر میں بہانا کئی دہائیوں پرانی روایت ہے۔ ماضی میں لوگ تجسس تفریح یا سائنسی تحقیق کے لیے ایسے پیغامات سمندر کے حوالے کرتے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ سمندری لہریں انہیں کہاں تک لے جاتی ہیں۔
اگرچہ جدید دور میں رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں لیکن ایسی دریافتیں آج بھی لوگوں کو ماضی کی یادوں اور انسانی تخیل کی خوبصورتی سے روشناس کراتی ہیں۔
نصف صدی بعد بھی مسکراہٹ بکھیرنے والی کہانی
53 برس بعد سامنے آنے والا یہ پیغام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ بچپن کی معصوم شرارتیں کبھی کبھی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایک نو سالہ بچی کی جانب سے مذاق میں لکھا گیا یہ خط نصف صدی تک سمندری سفر کرنے کے بعد دوبارہ دنیا کے
سامنے آیا اور نہ صرف اس کے خاندان بلکہ لاکھوں سوشل میڈیا صارفین کے چہروں پر بھی مسکراہٹ لے آیا۔
یہ غیر معمولی واقعہ ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات سمندر صرف سیپیاں ہی نہیں بلکہ برسوں پرانی یادیں بھی اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔