اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا دورہ کیا جہاں مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ این ڈی ایم اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشوں کا امکان موجود ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں احتیاطی تدابیر مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
غیر معمولی بارشوں کا خدشہ
این ڈی ایم اے حکام کے مطابق مون سون کے دوران شمالی اور مشرقی پاکستان کے علاقے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں شدید بارشوں کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بھی جاری ہے۔
حکام نے کہا کہ جدید پیشگوئی کے نظام، ارلی وارننگ سسٹم اور ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ برسوں میں 2022 اور 2025 کے دوران شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث فلیش فلڈ، شہری سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مون سون سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے تھے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو وزیراعظم کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مون سون کے دوسرے طاقتور اسپیل نے تباہی مچا دی، خیبرپختونخوا میں 12 افراد جاں بحق، آزاد کشمیر اور پنجاب میں سیلابی صورتحال
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہے، اس لیے قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
زراعت اور پانی پر توجہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زرعی شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے، اسی لیے جدید ٹیکنالوجی اور نئے طریقہ کار کے ذریعے زرعی پیداوار کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ضلعی سطح کے اداروں کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خاص طور پر فصلوں اور زرعی نظام پر نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے لیے تحقیق اور جدید طریقہ کار پر کام جاری ہے۔
ڈیمز اور آبی ذخائر اہم
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی، میدانی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
چیئرمین واپڈا معین وٹو نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ بڑے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔
ارلی وارننگ سسٹم مزید بہتر
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، عالمی اداروں کے تعاون سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں نے ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا ہے، جس کے ذریعے عوام کو خطرات سے متعلق بروقت آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون سے قدرتی آفات کے دوران نقصانات کم کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ این ڈی ایم اے کا جدید وارننگ نظام عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔