اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں ٹورنٹو کے بلی بشپ ایئرپورٹ پر جیٹ طیاروں کی لینڈنگ کی اجازت مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اونٹاریو کے ٹرانسپورٹ وزیر پربمیت سرکاریا نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے "انتہا پسند گروہوں” کے دباؤ میں آ کر فیصلہ کیا ہے، جس سے مستقبل کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ریل منصوبے پر نظرثانی کا اشارہ
ذرائع کے مطابق، بلی بشپ ایئرپورٹ سے متعلق فیصلے کے ردعمل میں اونٹاریو حکومت اب ٹورنٹو سے کیوبیک سٹی تک مجوزہ "آلٹو” ہائی اسپیڈ ریل منصوبے کی حمایت پر دوبارہ غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینیں کئی بڑے شہروں کو آپس میں ملائیں گی۔
ارکان اسمبلی کے تحفظات
اونٹاریو کے 11 ارکان صوبائی اسمبلی (ایم پی پیز) نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آلٹو منصوبے سے متعلق اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب نہیں دیے گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مقامی آبادی اور کسانوں کی رائے کو منصوبے کی منصوبہ بندی، روٹ کے انتخاب اور عملدرآمد میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ زرعی اراضی پر کم سے کم اثر پڑے۔
وفاقی حکومت نے بلی بشپ منصوبہ کیوں مسترد کیا؟
وفاقی وزیر ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ حکومت بلی بشپ ایئرپورٹ پر جیٹ طیاروں کی اجازت نہیں دے گی اور صرف پہلے سے منظور شدہ حفاظتی اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق عوامی مشاورت کے دوران 87 فیصد شرکاء نے جیٹ سروس کی مخالفت کی، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں ؍کینیڈا میں تیز رفتار ریل منصوبہ، ابتدائی سروے کا آغاز جلد متوقع
سیاسی مفادات بھی زیر بحث
سینئر لبرل ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا وقت بھی اہم سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت ٹورنٹو کے حلقہ بیچز-ایسٹ یارک میں ہونے والے ضمنی انتخاب سے قبل مقامی ووٹرز کی رائے کو مدنظر رکھنا چاہتی تھی، جہاں این ڈی پی بھی ایئرپورٹ کی توسیع کی مخالفت کر رہی ہے۔
صوبائی حکومت حیران رہ گئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اونٹاریو حکومت کو وفاقی فیصلے کی توقع نہیں تھی کیونکہ دونوں حکومتوں کے درمیان کئی ماہ سے بلی بشپ ایئرپورٹ کی توسیع اور آلٹو ہائی اسپیڈ ریل منصوبے پر باہمی تعاون کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ دونوں منصوبوں کے لیے سیاسی حمایت اور عوامی اعتماد ضروری تھا۔
وزیراعظم کے دفتر کا مؤقف
وزیراعظم کے دفتر نے آلٹو منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے اسے کینیڈا کے لیے "نسلوں پر محیط سرمایہ کاری” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 2055 تک اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ جبکہ 2085 تک 4 کروڑ 30 لاکھ مسافروں کے سفر کرنے کی توقع ہے۔
ٹورنٹو میئر کا مطالبہ
دوسری جانب ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ، جو بلی بشپ ایئرپورٹ پر جیٹ طیاروں کی مخالف ہیں، نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت ایئرپورٹ سے متعلق اپنے قبضے میں لی گئی زمین شہر کو واپس کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی حمایت کے بغیر منصوبے کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
وفاقی حکومت کے حالیہ فیصلے نے نہ صرف بلی بشپ ایئرپورٹ کی توسیع کو غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ کینیڈا کے سب سے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک، آلٹو ہائی اسپیڈ ریل، کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگر دونوں حکومتیں اختلافات دور نہ کر سکیں تو یہ تنازع آئندہ مہینوں میں ملکی سیاست اور ترقیاتی منصوبوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔