اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان عمان نے اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی مکینزم کی تجویز پیش کر دی ہے ۔
تجویز کے تحت ایران کو اس راستے پر اکیلے کنٹرول حاصل نہیں ہوگا بلکہ خطے کے ممالک کی شراکت سے انتظامی نظام قائم کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیجی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمان کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو متعدد خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس پر سفارتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
ایران کا واحد کنٹرول ختم کرنے کی تجویز
ذرائع کے مطابق عمان کی تجویز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے انتہائی اہم عالمی بحری راستے کا انتظام کسی ایک ملک کے بجائے مشترکہ علاقائی نظام کے تحت چلایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں :
آبنائے ہرمز پر کشیدگی، ایران نے امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دیدیا
مجوزہ منصوبے کے تحت ایران اس آبی گزرگاہ پر واحد اختیار نہیں رکھے گا بلکہ دیگر متعلقہ ممالک بھی انتظامی اور عملی امور میں شریک ہوں گے جس سے بحری آمدورفت کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
آبنائے ملاکا کے کامیاب ماڈل سے رہنمائی
رپورٹ کے مطابق عمان نے اپنی تجویز میں جنوب مشرقی ایشیا کی معروف آبنائے ملاکا کے انتظامی ماڈل کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس ماڈل کے تحت آبی راستہ استعمال کرنے والے ممالک اور شپنگ کمپنیاں رضاکارانہ بنیادوں پر فیس ادا کرتی ہیں جس سے جہاز رانی کے نظام، بحری سلامتی، ماحولیاتی تحفظ، نیویگیشن سہولیات اور ریسکیو آپریشنز کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
علاقائی تعاون پر زور
خلیجی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ مکینزم سے نہ صرف آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ عالمی تجارتی جہازوں کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔
تجویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آبی گزرگاہ کے انتظام میں علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران یا تنازع کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔
عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں :
آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت عالمی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دے دیا
اسی وجہ سے اس آبی راستے کی سلامتی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
عمان کی تجویز پر علاقائی اتفاق رائے قائم ہو جاتا ہے تو یہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری سلامتی کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے تاہم اس بارے میں متعلقہ ممالک کے باضابطہ مؤقف اور آئندہ مذاکرات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔