اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) متحدہ عرب امارات نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مربوط عدالتی پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عدالتی کارروائی کو تیز، شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ مقدمات کے فیصلوں کے عمل میں بہتری لائی جا سکے اور عوام کو معیاری قانونی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
مقدمات کے تجزیے اور قانونی تحقیق میں معاونت
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ نیا اے آئی پلیٹ فارم قانونی تحقیق، مقدمات کے تجزیے، عدالتی دستاویزات کی تیاری اور متعلقہ قانونی نظائر تک فوری رسائی فراہم کرے گا۔ اس جدید نظام کی مدد سے ججز اور عدالتی عملہ مقدمات سے متعلق معلومات کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کر سکیں گے جس سے عدالتی کارروائی کی رفتار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
انسانی ہدایات نظرانداز کرنے والے اے آئی چیٹ بوٹس میں اضافہ، چونکا دینے والے انکشافات
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت مقدمات کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرکے ضروری معلومات فوری طور پر فراہم کرے گی جس سے عدالتی عملے کا وقت بچے گا اور مقدمات کو زیادہ مؤثر انداز میں نمٹانے میں مدد ملے گی۔
حتمی فیصلہ صرف ججز ہی کریں گے
اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عدالتی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اے آئی صرف معاون ٹیکنالوجی کے طور پر کام کرے گی جبکہ ہر مقدمے کا حتمی فیصلہ ججز ہی قانون، شواہد اور آئینی تقاضوں کے مطابق کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں انسانی بصیرت، قانونی تشریح اور عدالتی صوابدید بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے مصنوعی ذہانت کو صرف معاون کردار تک محدود رکھا گیا ہے۔
شیخ منصور کا اقدام کو تاریخی کامیابی قرار
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے مصنوعی ذہانت پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم کو انصاف کے شعبے میں ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پاکستانی نوجوان کی بڑی کامیابی: اے آئی پر مبنی منفردسافٹ ویئر تیار کر لیا
انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام قانونی تحقیق، عدالتی دستاویزات کی تیاری اور مقدمات کے تجزیے میں اہم معاون ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کرے گا بلکہ عوام کو بھی تیز اور معیاری قانونی خدمات کی فراہمی ممکن بنائے گا۔
قومی حکمت عملی کا اہم حصہ
شیخ منصور نے کہا کہ متحدہ عرب امارات مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ عدالتی نظام میں اے آئی کا انضمام بھی اسی وژن کا حصہ ہےجس کے ذریعے حکومتی اداروں کو جدید، ڈیجیٹل اور عوام دوست بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی ٹیکنالوجی عدالتی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ماہرین کی رائے
قانونی اور تکنیکی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال سے مقدمات کی ابتدائی جانچ، قانونی نظائر کی تلاش، عدالتی ریکارڈ کی درجہ بندی اور دستاویزات کی تیاری جیسے مراحل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے نتیجے میں ججز معمول کے انتظامی امور پر کم وقت صرف کریں گے اور پیچیدہ قانونی معاملات پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید ٹیکنالوجی کو مناسب نگرانی اور مضبوط قانونی ضوابط کے تحت استعمال کیا جائے تو اس سے عدالتی نظام کی مجموعی کارکردگی اور عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
انصاف کی فراہمی میں نئی پیش رفت
متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام دنیا بھر میں عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مربوط اے آئی عدالتی پلیٹ فارم مقدمات کے جلد تصفیے، قانونی خدمات کے معیار میں بہتری، عدالتی شفافیت کے فروغ اور انصاف کی بروقت فراہمی میں مؤثر کردار ادا کرے گا، جبکہ عدالتی فیصلوں کی ذمہ داری بدستور انسانی ججز کے پاس ہی رہے گی۔