خون میں پلاسٹک! دل کی بیماریوں سے متعلق تحقیق نے دنیا کو چونکا دیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون میں شامل ہو کر دل کی شریانوں تک پہنچ رہے ہیں ۔

شریانوں میں رکاوٹ پیدا کرکے ہارٹ اٹیک، فالج اور اچانک موت جیسے سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے یہ ننھے ذرات خوراک، پینے کے پانی اور آلودہ ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور خون کے بہاؤ کے ساتھ مختلف اعضاء تک پہنچ جاتے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ذرات صرف ماحول ہی نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک جسم میں داخل ہونے کا اندازہ

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اندازوں کے مطابق ایک عام انسان ہر ہفتے تقریباً ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک غیر محسوس طریقے سے خوراک، پانی اور سانس کے ذریعے اپنے جسم میں جذب کر رہا ہے۔ اگرچہ اس مقدار کا انحصار رہائشی ماحول، خوراک اور طرزِ زندگی پر بھی ہوتا ہے، تاہم مجموعی طور پر مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے یہ باریک ذرات آنکھ سے نظر نہیں آتے، لیکن انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد مختلف اعضاء، خصوصاً دل اور خون کی شریانوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :

موسمِ گرما سے قبل کیوبیک کا محکمۂ صحت الرٹ، طبی خدمات کی بندش روکنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال

انجیوگرافی کے مریضوں پر تحقیق

تحقیق کے دوران انجیوگرافی کروانے والے افراد کے تین مختلف گروپس تشکیل دیے گئے۔ ان میں ہارٹ اٹیک کا شکار مریض، دل کی شریانوں کے سکڑاؤ میں مبتلا افراد اور بظاہر صحت مند افراد شامل تھے۔ جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کی خون کی شریانوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تاکہ مائیکرو پلاسٹک ذرات کی موجودگی اور مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے۔
تحقیق کے نتائج نے ماہرین کو حیران کر دیا، کیونکہ مختلف گروپس میں شریانوں کے اندر پلاسٹک کے ذرات کی نمایاں موجودگی سامنے آئی۔
ہارٹ اٹیک کے مریضوں میں سب سے زیادہ مائیکرو پلاسٹک
تحقیق کے مطابق ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ اسی طرح شریانوں کے سکڑاؤ میں مبتلا 40 فیصد افراد اور بظاہر صحت مند 32 فیصد افراد کی شریانوں میں بھی یہ ذرات موجود تھے۔
تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شریانوں میں سب سے زیادہ مقدار پولی تھین پلاسٹک کی دیکھی گئی، جو روزمرہ استعمال کی اشیا، پلاسٹک بیگز اور پیکنگ میٹریل میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔

فالج اور اچانک موت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹک جمع ہونے سے سوزش، شریانوں کی تنگی اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک، فالج اور بعض صورتوں میں اچانک موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے صحت پر طویل المدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید سائنسی مطالعات کی ضرورت ہے، تاہم موجودہ شواہد اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی بھی اہم عوامل

تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی مائیکرو پلاسٹک ذرات کو جسم میں داخل ہونے اور خون کی شریانوں میں جمع ہونے کے عمل کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آلودہ ماحول میں رہنے والے افراد اور سگریٹ نوش افراد اس حوالے سے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں :

سالگرہ کے کیک پر لگی موم بتیاں دل کی بیماری کا باعث بن سکتی ہیں 

انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ جہاں ممکن ہو پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں، محفوظ پینے کے پانی کا استعمال کریں، فضائی آلودگی سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کریں اور تمباکو نوشی سے اجتناب کریں تاکہ دل اور مجموعی صحت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

مائیکرو پلاسٹک اب صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ طبی مسئلہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی صحت، خصوصاً دل اور خون کی شریانوں کے لیے ایک سنجیدہ طبی چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے حکومتوں، صنعتوں اور عوام پر زور دیا کہ پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں