اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں گورڈی ہو انٹرنیشنل برج کے افتتاح اور امریکا کے ساتھ آمدنی کی تقسیم کے معاہدے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا، تاہم لبرل ارکان کی اکثریت نے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بغیر ووٹنگ کے ملتوی کر دیا۔
تحقیقات کے لیے قرارداد پیش
بدھ کو ہاؤس آف کامنز کی اسٹینڈنگ کمیٹی آن گورنمنٹ آپریشنز اینڈ ایسٹیمیٹس کے اجلاس میں کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈین الباس نے ایک قرارداد پیش کی، جس میں پل کے افتتاح سے متعلق معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے کم از کم پانچ اجلاسوں پر مشتمل تحقیق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
قرارداد میں تجویز دی گئی تھی کہ انفراسٹرکچر وزیر گریگر رابرٹسن، کینیڈا۔امریکا تجارت کے وزیر ڈومینک لی بلانک اور وزیر خزانہ فرانکوئس فلپ شیمپین کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دینی چاہیے۔
اس کے علاوہ ہاؤسنگ، کمیونٹیز اینڈ انفراسٹرکچر ڈپارٹمنٹ سے کہا جانا تھا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر مجوزہ معاہدے کے تمام مسودے فراہم کرے۔
اپوزیشن کے سوالات
ونڈسر ویسٹ سے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ہرب گل نے اجلاس میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کے ساتھ کینیڈین حکومت کی جانب سے دی گئی کئی رعایتوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل سروسز ٹیکس، نام نہاد "نیٹ فلکس ٹیکس” ختم کرنے اور جوابی ٹیرف واپس لینے کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اصل شرائط کیا تھیں؟
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کی حکومت 1 نومبر 2022 تک تازہ ترین امیگریشن لیول پلان کا اعلان کریگی
انہوں نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ٹرمپ نے پل کی نصف ملکیت کا مطالبہ کیا تھا، کینیڈا نے ایسا نہیں کیا، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن پھر باقی مطالبات کیا تھے؟ آمدنی کتنی ہونی تھی؟ کتنے عرصے کے لیے؟ اور امریکا پل پر کس قسم کا اختیار چاہتا تھا؟”
آمدنی کی تقسیم پر تنازع
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب لبرل حکومت کو امریکا کے ساتھ پل کی آمدنی تقسیم کرنے کے معاہدے پر مسلسل سوالات کا سامنا ہے۔
گورڈی ہو انٹرنیشنل برج، جو ونڈسر، اونٹاریو اور ڈیٹرائٹ، مشی گن کے درمیان قائم کیا گیا ہے، پیر کے روز ٹریفک کے لیے کھولا گیا۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق کینیڈا اگلے 15 سال تک پل سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی کا نصف حصہ امریکا کے ساتھ شیئر کرے گا۔
وزیراعظم مارک کارنی پہلے کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو ٹول آمدنی اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک پل کی تعمیر پر آنے والا کینیڈا کا قرض ادا نہیں ہو جاتا۔
حکومت کا دفاع
لبرل ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ الباس کی قرارداد پل کے مثبت اثرات کو نظر انداز کر رہی ہے۔اجلاس کے دوران کئی لبرل ارکان نے پل کے معاشی فوائد اور بین الاقوامی تجارت میں اس کے کردار پر بات کی، جس پر اپوزیشن ارکان نے اعتراض کیا کہ کمیٹی کو اصل قرارداد پر بحث کرنی چاہیے۔
بعد میں کنزرویٹو رکن میلیسا لینٹس مین نے قرارداد میں ترمیم پیش کی تاکہ تحقیق میں پل کے فوائد سے متعلق گواہی بھی شامل کی جا سکے۔انہوں نے کہا، "میں قرارداد میں ترمیم کر رہی ہوں تاکہ لبرلز کو وہ سب کچھ مل جائے جس کا وہ یہاں مطالبہ کر رہے ہیں۔”
معاہدے کی تفصیلات پر سوالات
لینٹس مین نے کہا کہ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات عوامی ہیں، لیکن کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔
انہوں نے معاہدے میں موجود ایک شق کا حوالہ دیا جس میں "پل کے تمام اخراجات” کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ معاہدہ واضح نہیں کرتا کہ ان اخراجات میں کیا کچھ شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے حکام سے اس کی وضاحت مانگی، تاہم وزیراعظم آفس کی جانب سے صرف ٹول بوتھ، مرمت اور برف ہٹانے جیسے اخراجات کی مثالیں دی گئیں، مگر مکمل تعریف سامنے نہیں آئی۔
حکومت کا مؤقف
لبرل رکن پارلیمنٹ میری فرانس لالوندے نے کہا کہ معاہدے عوامی طور پر مذاکرات کے ذریعے نہیں کیے جاتے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری دنیا میں بھی پہلے مذاکرات کیے جاتے ہیں اور پھر معاہدہ عوام کے سامنے آتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں امریکا کے ساتھ مالی معاملات شامل ہیں، اس لیے عوام کو مکمل شفافیت فراہم کی جانی چاہیے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ کمیٹی دوبارہ اس معاملے پر کب غور کرے گی، تاہم گورڈی ہو برج کا معاہدہ کینیڈین سیاست میں ایک اہم بحث کا موضوع بن چکا ہے۔