اردوورلڈکینیڈا)ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا نے صحت کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے شہریوں کو بیماریوں، خصوصاً کینسر، کی جلد تشخیص کے لیے مزید اختیارات فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت البرٹا کے شہری اب بعض تشخیصی ٹیسٹ ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر بھی کروا سکیں گے، جبکہ کینسر کی تشخیص ہونے کی صورت میں اخراجات کی واپسی بھی ممکن ہوگی۔
31 جولائی سے نئی سہولت کا آغاز
صوبائی حکومت کے مطابق 31 جولائی سے البرٹا کے شہری نجی طبی مراکز سے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسے تشخیصی ٹیسٹ اپنی مرضی سے خرید سکیں گے، اس کے لیے ڈاکٹر کے ریفرل کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں زیادہ بااختیار بنانا اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کو فروغ دینا ہے۔
کینسر کی تشخیص پر اخراجات واپس مل سکیں گے
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر احتیاطی بنیادوں پر کروائے گئے ٹیسٹ کے نتیجے میں کسی ایسے کینسر کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی پہلے تشخیص نہ ہوئی ہو، تو مریض سرکاری طور پر مقررہ نرخوں کے مطابق اخراجات کی واپسی کا اہل ہوگا۔مریض کو کینسر کی تشخیص کے بعد ایک سال کے اندر ری ایمبرسمنٹ کے لیے درخواست جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔
سرکاری نظام برقرار رہے گا
البرٹا حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام سرکاری صحت کے نظام کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرے گا۔تمام طبی طور پر ضروری علاج اور ٹیسٹ پہلے کی طرح عوامی فنڈز سے ہی فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ ٹیسٹوں کو سرکاری اور نجی دونوں مراکز میں ترجیح دی جاتی رہے گی۔
پریمیئر کا مؤقف
البرٹا کی پریمیئرڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ بہتر صحت کی بنیاد احتیاط اور بروقت تشخیص پر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ البرٹا کینیڈا کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جو احتیاطی طبی ٹیسٹنگ تک رسائی کو اس انداز میں وسعت دے رہا ہے، کیونکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں جلد تشخیص کے مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں صحت نظام کی ازسرِ نو تشکیل کا آخری مرحلہ سامنے آگیا،شہریوں کو احتیاطی معائنے کے لیے خود رجوع کرنے کی اجازت دینے کی تجویز
ان کے مطابق حکومت شہریوں کو بیماریوں کی جلد شناخت کے مزید مواقع فراہم کر رہی ہے جبکہ عوامی فنڈ سے چلنے والا صحت کا نظام بدستور برقرار رہے گا۔
وزیر صحت کی وضاحت
وزیر برائے بنیادی اور احتیاطی صحت خدمات جسٹن رائٹ کا کہنا ہے کہ ہر شہری کو صحت مند مستقبل کے لیے بہترین موقع ملنا چاہیے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے لوگوں کو کینسر کی جلد تشخیص، بروقت علاج تک رسائی اور اپنی صحت کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
کینسر اب بھی سب سے بڑا خطرہ
صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق البرٹا میں کینسر موت کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر دو میں سے ایک البرٹا کا شہری اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر کا شکار ہو سکتا ہے، اسی لیے ابتدائی تشخیص اور اسکریننگ کی سہولیات میں اضافہ انتہائی اہم ہے۔
اگر کسی ٹیسٹ کے دوران کینسر کا شبہ یا تصدیق ہوتی ہے تو مریض کو مزید علاج اور نگرانی کے لیے کینسر کیئر البرٹا کے پاس بھیجا جائے گا۔
ماہرین نے اقدام کا خیرمقدم کیا
کینسر کیئر البرٹا کی چیئر اور منیجنگ ڈائریکٹر برینڈا ہبلی نے کہا کہ ادارے کی ترجیح یہ ہے کہ تشخیص کے بعد مریض کو علاج تک ایک واضح اور مربوط راستہ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ احتیاطی ٹیسٹنگ شہریوں کو بااختیار بناتی ہے اور بیماری کی جلد شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب البرٹا سوسائٹی آف ریڈیالوجسٹس کے صدر ڈاکٹر رحیم سامجی نے بھی اس پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بروقت تشخیصی سہولیات ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہیں اور البرٹا پہلے ہی تشخیصی امیجنگ کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔
دنیا کے کامیاب ماڈلز سے رہنمائی
حکومت کے مطابق جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک نے صحت کے مضبوط عوامی نظام کے ساتھ احتیاطی اسکریننگ اور جلد تشخیص کے مختلف ماڈلز اختیار کر رکھے ہیں۔
تحقیقی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکریننگ کے دائرہ کار میں توسیع سے کینسر کے زیادہ کیسز ابتدائی مرحلے میں سامنے آتے ہیں، جس سے بروقت علاج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور زندگیاں بچانے میں مدد ملتی ہے۔
ڈیجیٹل ریکارڈ سے نظام مزید مؤثر ہوگا
نئی پالیسی کے تحت تمام ٹیسٹ نتائج الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ سے منسلک کیے جائیں گے تاکہ مریض اور ڈاکٹر ایک ہی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں اور غیر ضروری دہراؤ سے بچا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تشخیصی مراکز اور جدید طبی آلات میں مزید سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہوگی، جس سے پورے صوبے میں جلد تشخیص کی سہولیات میں اضافہ متوقع ہے۔