اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر پینٹکٹن میں ایک آرٹ گیلری کی جانب سے عطیہ کیے گئے فن پاروں کو مقامی تھرفٹ اسٹور میں فروخت کیے جانے پر فنکاروں اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مقامی فنکار نوربرٹو روڈریگز ڈی لا ویگا اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا عطیہ کردہ فن پارہ، جو پینٹکٹن آرٹ گیلری کے لیے فنڈ ریزنگ کے مقصد سے دیا گیا تھا، ایک دکان میں صرف 11 کینیڈین ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔فنکار نے اس اقدام کو اپنی محنت اور فن کی توہین قرار دیا۔
گیارہ ڈالر میں فن پارہ فروخت
روڈریگز ڈی لا ویگا کے مطابق ان کے دوست نے ویلیو ولیج نامی تھرفٹ اسٹور سے ان کا فن پارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کی، جہاں وہ شیلف پر صرف 11 ڈالر قیمت کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس رقم سے تو فن پارہ بنانے میں استعمال ہونے والے مواد کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی، اس لیے یہ فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فن پارے صرف ایک چیز نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے فنکار کی محنت، وقت اور تخلیقی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔
گیلری نے غلطی تسلیم کر لی
پینٹکٹن آرٹ گیلری نے اعتراف کیا ہے کہ مقامی فن پاروں کو ویلیو ولیج پہنچانے کا فیصلہ ایک غلطی تھی۔گیلری بورڈ کی صدر لیزلی واٹمو کے مطابق گیلری کو سیکڑوں ایسے فن پارے ملے جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا اور وہ میوزیم کے معیار کے مطابق محفوظ بھی نہیں کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :واٹس ایپ تصاویر اور ویڈیوز کوخود بخود فون گیلری میں محفوظ ہونے سے روکنے کا آسان طریقہ
انہوں نے کہا کہ گیلری کے لیے یہ جاننا مشکل تھا کہ کون سے فن پارے کس شخص نے عطیہ کیے تھے اور کن لوگوں کو ٹیکس رسیدیں جاری کی گئی تھیں۔
واپس کرنا بھی آسان نہیں تھا
گیلری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی عطیہ کردہ فن پارے کے بدلے ٹیکس رسید جاری کی گئی ہو تو اسے دوبارہ اسی شخص کو واپس کرنا قانونی طور پر مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اسے ٹیکس فراڈ تصور کیا جا سکتا ہے۔واٹمو کے مطابق تمام فن پاروں کی نمائش کے لیے اضافی جگہ، وقت اور عملے کی ضرورت تھی، جبکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے گیلری کو خاطر خواہ آمدنی حاصل نہیں ہوگی۔
فنکار برادری میں غصہ
مقامی آرٹ کمیونٹی نے گیلری کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔پینٹکٹن آرٹ گیلری کے سابق کیوریٹر پال کرافورڈ نے کہا کہ اس معاملے میں شفافیت کا فقدان رہا ہے اور اس اقدام سے نہ صرف گیلری بلکہ دیگر ثقافتی اداروں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فروخت کے لیے بھیجے گئے فن پارے صرف مقامی فنکاروں کے نہیں تھے بلکہ برٹش کولمبیا اور پورے کینیڈا کے معروف فنکاروں کے کام بھی شامل تھے۔
معروف فنکاروں کے کام بھی شامل
کرافورڈ کے مطابق ان فن پاروں میں ہیلن مے ڈیوک، سوفی ایٹکنسن اور ولیم الیگزینڈر جیسے فنکاروں کے کام بھی شامل تھے۔
انہوں نے ولیم الیگزینڈر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہی فنکار تھے جنہوں نے مشہور پینٹر باب راس کو سکھایا اور انہیں برش تھمایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے فن پاروں کو معمولی قیمت پر فروخت کرنا ملک کے ثقافتی ورثے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اعتماد بحال کرنے کی کوشش
پینٹکٹن آرٹ گیلری کا کہنا ہے کہ وہ کمیونٹی کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔گیلری بورڈ کی صدر نے کہا کہ آرٹ کی حفاظت صرف باتوں سے نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی ادارہ فن پارے قبول کرتا ہے تو اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے پاس انہیں محفوظ رکھنے کے لیے جگہ، وسائل اور مناسب انتظام موجود ہو۔
مزید فن پارے زیر غور
گیلری کے مطابق اب بھی درجنوں فن پارے موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور انتظامیہ کمیونٹی سے تجاویز طلب کر رہی ہے کہ ان کے ساتھ بہتر طریقے سے کیسے نمٹا جائے۔
واٹمو نے کہا کہ گیلری چاہتی ہے کہ آئندہ ایسے معاملات زیادہ ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ انجام دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ اس صورتحال کو بہتر انداز میں حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں فنکاروں کے اعتماد کو دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔