اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر وِنی پیگ میں ایک مسجد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اندر نمازی موجود تھے۔ نامعلوم افراد نے مسجد پر فائرنگ کی، جس سے کھڑکیوں کے شیشوں میں گولیوں کے سوراخ ہو گئے، جبکہ بعد ازاں کچھ افراد نے مسجد کی عمارت پر حملہ کر کے مزید نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد مسلم کمیونٹی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور رہنماؤں نے حکومت سے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
نمازیوں کی موجودگی میں حملہ
پولیس اور مسجد انتظامیہ کے مطابق بدھ کی رات دو افراد گاڑی میں سوار ہو کر مسجد کے قریب آئے اور عمارت کی جانب فائرنگ کی۔ اس وقت مسجد میں لوگ موجود تھے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی رات بعد میں دو افراد پیدل آئے اور کسی بھاری چیز سے مسجد کی دیواروں اور کھڑکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کو نقصان پہنچا۔
نسلی تعصب پر مبنی نعرے
وِنی پیگ پولیس کے مطابق حملے سے قبل یہی افراد مسجد کے باہر آئے اور وہاں موجود افراد کے خلاف نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرے بھی لگائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسجد پر فائرنگ بھی کی گئی، جس کی وجہ سے کھڑکیوں میں گولیوں کے نشانات پائے گئے۔
امام کا جذباتی بیان
رحمہ اسلامک سینٹر کے امام فیصل آدم نے پریس کانفرنس کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ کمیونٹی نے ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ ایسے واقعات شاید ان کے شہر میں کبھی نہیں ہوں گے، مگر اب حقیقت مختلف نظر آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سالسا آن سینٹ کلیئر فیسٹیول میں فائرنگ کے بعد اسپانسر کی وارننگ، آئندہ تقریب خطرے میں پڑ گئی
انہوں نے کہا کہ مسجد آنے والے افراد خود کو محفوظ سمجھتے تھے، لیکن اس حملے نے ان کے اعتماد اور احساسِ تحفظ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ان کے مطابق یہ واقعہ کینیڈا میں ماضی میں ہونے والے اسلاموفوبیا کے ہولناک حملوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔
مساجد محفوظ ہونی چاہئیں
وِنی پیگ اسلامک سینٹر کے صدر قدر احمد نے کہا کہ مساجد عبادت، سکون اور خاندانی اجتماع کی جگہ ہوتی ہیں، جہاں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نفرت اور تشدد کی ایسی کارروائیوں کی منی ٹوبا میں کوئی جگہ نہیں اور پوری کمیونٹی متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرے گی۔
اسلاموفوبیا میں اضافہ
نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (NCCM) کے مطابق یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کا حصہ ہے۔
تنظیم کی نمائندہ صدف احمد نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، جو انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حملے کی باقاعدہ نفرت پر مبنی جرم (Hate Crime) کے طور پر تحقیقات کی جائیں۔
حالیہ واقعات بھی تشویشناک
کمیونٹی رہنماؤں نے یاد دلایا کہ رواں سال جنوری میں وِنی پیگ کے ایک مشرقِ وسطیٰ کے ریستوران حبیبیز کیفے کے شیشے بھی توڑ دیے گئے تھے۔
چند روز بعد ایک اور مسجد ابو بکر الصدیق مسجد کی دیوار پر سواستیکا کا نشان بھی بنایا گیا تھا، جس نے مقامی مسلمانوں میں مزید تشویش پیدا کر دی تھی۔
حکومت کا ردعمل
منی ٹوبا کی وزیر برائے ثقافت و ورثہ نیلی کینیڈی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نفرت پر مبنی جرائم کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مسجد کی مرمت کے اخراجات برداشت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایسے حملوں کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے۔
وزیراعظم اور میئر کا بیان
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے مسجد پر حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہ پر حملہ ناقابل قبول ہے۔
وِنی پیگ کے میئر اسکاٹ گلنگھم نے بھی کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی عبادت گاہ یا کمیونٹی سینٹر میں خوف محسوس نہیں ہونا چاہیے۔
پولیس کی تحقیقات جاری
وِنی پیگ پولیس نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات ممکنہ نفرت انگیز جرم کے طور پر کی جا رہی ہیں۔تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا، تاہم پولیس نے شہر کی مساجد اور اسلامی مراکز کے اطراف گشت بڑھانے اور اضافی نفری تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مسجد کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تین ہزار کینیڈین ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
مسلم کمیونٹی کا مطالبہ
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مسجد پر حملہ نہیں بلکہ مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور شہریوں کے تحفظ پر حملہ ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کے خاتمے، عبادت گاہوں کے تحفظ اور اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔