اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مراحل کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ غزہ بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت تنظیم کے ہتھیار مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔بورڈ کے مطابق اس اقدام کے بعد غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی راہ ہموار ہو سکے گی، جبکہ علاقے میں نئی انتظامیہ، سکیورٹی نظام اور تعمیر نو کے منصوبوں پر کام آگے بڑھایا جائے گا۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کا منصوبہ
غزہ بورڈ آف پیس کے مطابق کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس پہلی مرتبہ اپنے تمام ہتھیار مرحلہ وار چھوڑنے کے عملی منصوبے پر رضامند ہوئی ہے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صرف جنگ بندی برقرار رکھنا نہیں بلکہ غزہ کے مستقبل کے لیے ایک نیا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا بھی ہے۔
اسرائیلی فوج کے انخلا کا راستہ
معاہدے کے مطابق حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کے بعد اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا کا عمل شروع ہو سکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جیسے ہی غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں ایک نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔
غزہ کے لیے نئی انتظامیہ کا منصوبہ
غزہ بورڈ آف پیس کے مطابق مستقبل کے انتظامی معاملات کے لیے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے ساتھ مل کر اختیارات کی مرحلہ وار منتقلی پر کام جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کمیٹی کو بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہوگی، جو غزہ میں سکیورٹی معاملات میں مدد فراہم کرے گی۔
تعمیر نو اور معاشی بحالی پر توجہ
بورڈ کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد غزہ میں صرف جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ علاقے کی تعمیر نو، معاشی بحالی اور عوامی زندگی کو معمول پر لانا بھی ہے۔
اس منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کی بحالی، انتظامی اداروں کی تشکیل اور سکیورٹی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
حماس کی تصدیق
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کیا غزہ پیس بورڈ اقوامِ متحدہ کا متبادل بننے جا رہا ہے ؟ ٹرمپ کا بڑا دعوی
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالث اپنا کردار ادا کریں اور امید ظاہر کی کہ ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو بھی معاہدے کی پابندی پر مجبور کریں گے۔
ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاہدہ ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ مرحلہ وار اور منظم طریقے سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ٹرمپ کے مطابق یہ پیش رفت غزہ میں امن اور ایک نئے سیاسی مرحلے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
بین الاقوامی فورس کا کردار
معاہدے کے تحت بین الاقوامی استحکام فورس کو غزہ میں سکیورٹی معاملات میں اہم کردار دیا جائے گا۔اس فورس کا مقصد مقامی اداروں کی مدد کرنا، امن و امان برقرار رکھنا اور انتظامی منتقلی کے عمل کو آسان بنانا ہوگا۔
عملدرآمد سب سے بڑا چیلنج
اگرچہ معاہدے کے اعلان کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر عملی طور پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ماضی میں غزہ سے متعلق کئی جنگ بندی معاہدے مختلف وجوہات کی بنا پر مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں، اس لیے آئندہ مرحلے میں تمام فریقوں کی جانب سے وعدوں پر عمل کرنا انتہائی اہم ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو یہ غزہ میں طویل عرصے بعد سیاسی استحکام، تعمیر نو اور علاقائی امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔