اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری کی فوجی اور بحری برادری کی ایک نمایاں شخصیت، دوسری جنگ عظیم کے بہادر سپاہی اور متعدد اعزازات حاصل کرنے والے کیپٹن ولیم (بل) ولسن 101 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
کیپٹن بل ولسن نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کینیڈا کی بحریہ، فوجی تاریخ اور کمیونٹی کی خدمت کے لیے وقف کیا۔ وہ نہ صرف جنگ عظیم دوم کے تجربہ کار فوجی تھے بلکہ کیلگری کے نیول میوزیم اور فوجی ورثے کو محفوظ رکھنے میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔
جوانی میں جنگ کا حصہ بننے کا جذبہ
بل ولسن 5 نومبر 1924 کو ونی پیگ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1942 میں صرف 18 سال کی عمر میں رائل کینیڈین نیوی میں شمولیت اختیار کی۔
ان کے قریبی ساتھی اسکاٹ ہاؤس برگ کے مطابق ولسن بچپن ہی سے سی کیڈٹس میں شامل تھے اور جنگ میں حصہ لینے کے لیے بہت پرجوش تھے۔
یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والےونی پیگ کے شخص کا عدالت میں اعتراف جرم
ہاؤس برگ نے بتایا کہ جب ولسن 18 سال کے ہوئے تو وہ بھرتی کے دفتر پہنچ گئے، تاہم طبی معائنے کے دوران انہیں کم وزن ہونے کی وجہ سے ناکام قرار دے دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بھرتی کرنے والے اہلکار نے ولسن سے کہا کہ وہ سامنے موجود دکان سے کیلے خرید کر کھائیں اور دوبارہ وزن کروائیں۔ ولسن نے ایسا ہی کیا اور چند اونس وزن بڑھنے کے بعد بحریہ میں شامل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
بحر اوقیانوس کی جنگ اور ڈی ڈے آپریشن
ولسن نے رائل کینیڈین نیوی کے جہاز HMCS Ottawa پر بطور سی مین گنر خدمات انجام دیں۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے آخری دور میں بحر اوقیانوس کی جنگ کا حصہ رہے اور 1944 میں فرانس کے ساحل پر ہونے والے تاریخی ڈی ڈے آپریشن میں بھی شریک ہوئے۔ڈی ڈے کو تاریخ کی سب سے بڑی زمینی، بحری اور فضائی کارروائی قرار دیا جاتا ہے، جس میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار اتحادی فوجیوں نے حصہ لیا، جن میں 14 ہزار کینیڈین فوجی بھی شامل تھے۔
جنگ کا خوفناک منظر
ایک انٹرویو میں بل ولسن نے بتایا تھا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اندازہ نہیں تھا کہ ڈی ڈے آپریشن کتنا بڑا اور خطرناک ہوگا۔انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب فوجی کشتیوں سے اتر کر ساحل کی جانب بڑھ رہے تھے تو ہر طرف دھواں، گولہ باری اور مشین گنوں کی آوازیں تھیں۔
ان کے مطابق بہت سے فوجی ساحل پر پہنچتے ہی دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔ڈی ڈے کے روز 4 ہزار 414 اتحادی فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 381 کینیڈین شامل تھے۔ بعد ازاں جنگ نورمنڈی کے 77 روزہ مرحلے میں ہزاروں فوجیوں نے جانیں قربان کیں۔ولسن کا کہنا تھا کہ ڈی ڈے دنیا کے لیے جنگ کا اہم ترین دن تھا کیونکہ اسی آپریشن نے یورپ کی آزادی کی راہ ہموار کی۔
جنگ کے بعد بھی خدمت جاری رکھی
جنگ کے اختتام کے بعد بل ولسن کینیڈا واپس آئے اور کچھ عرصہ کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ساتھ کام کیا۔ بعد میں وہ کیلگری منتقل ہو گئے۔انہوں نے نیول ریزرو میں بھی خدمات جاری رکھیں اور 1979 میں فعال فوجی سروس سے ریٹائر ہوئے۔تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا فوجی ورثے سے تعلق ختم نہیں ہوا۔
نیول میوزیم کے قیام میں اہم کردار
1984 میں بل ولسن نے نیول میوزیم آف البرٹا کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ میوزیم کے لیے فنڈز جمع کرنے اور تاریخی نوادرات حاصل کرنے میں پیش پیش رہے۔اسکاٹ ہاؤس برگ کے مطابق ولسن ایسی شخصیت تھے جنہیں کسی کام کے لیے انکار کرنا مشکل ہوتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب ولسن کو معلوم ہوا کہ برٹش کولمبیا کے شہر ایسکوئملٹ میں موجود ایک بڑی توپ میوزیم کے لیے درکار ہے تو انہوں نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے اسے حاصل کر لیا۔
اسی وجہ سے انہیں بحری حلقوں میں "کیپٹن ریبٹ” کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، جو کسی چیز کو حاصل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کینیڈا کے فوجی ورثے کا محافظ
2001 میں ولسن نے ایک مہم کی قیادت کی جس کے ذریعے 26 ملین کینیڈین ڈالر جمع کیے گئے اور کینیڈا کے سب سے بڑے فوجی عجائب گھر دی ملٹری میوزیمز کے قیام میں مدد ملی۔
ان کے ساتھیوں کے مطابق بل ولسن کی سب سے بڑی میراث ان کی مسلسل خدمت، جذبہ اور ملک سے وفاداری تھی۔اسکاٹ ہاؤس برگ نے کہا کہ بل ولسن نے اپنی پوری زندگی کینیڈا کی خدمت میں گزاری اور انہیں اسی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
کیپٹن بل ولسن کی یاد میں تعزیتی تقریب 10 اگست کو کیلگری کے HMCS Tecumseh میں منعقد کی جائے گی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی خدمات انجام دیں۔