کینیڈا میں دل کے مریضوں کے لیے بڑی پیش رفت، نئی بائی پاس سرجری نے روایتی طریقے کو پیچھے چھوڑ دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے دل کے مریضوں کے لیے علاج کا ایک نیا راستہ دکھا دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بائی پاس سرجری کا کم تکلیف دہ اور کم چِھرا لگانے والا طریقہ نہ صرف روایتی سرجری جتنا محفوظ ہے بلکہ بعض معاملات میں مریضوں کی صحت یابی بھی زیادہ تیز کر دیتا ہے۔

یہ تحقیق معروف طبی جریدے "دی لینسٹ” میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ کم سے کم تکلیف دہ طریقے سے بائی پاس کرانے والے مریض روایتی سرجری کروانے والوں کے مقابلے میں جلد معمول کی زندگی کی طرف واپس آئے۔

چھ ممالک کے مریضوں پر تحقیق

مطالعے کی قیادت یونیورسٹی آف اوٹاوا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر امراض قلب سرجن ڈاکٹر مارک ریوئل نے کی۔ تحقیق کے دوران 2018 سے 2024 کے درمیان چھ مختلف ممالک کے 170 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن کی متعدد شریانیں بند تھیں۔

محققین نے مریضوں کے دو گروپ بنائے۔ ایک گروپ کی روایتی بائی پاس سرجری کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کا علاج کم تکلیف دہ جدید طریقے سے کیا گیا۔

روایتی سرجری میں بڑا چیرا

دل کی بائی پاس سرجری دنیا میں سب سے زیادہ کی جانے والی بڑی سرجریوں میں شامل ہے۔ روایتی طریقے میں ڈاکٹر مریض کے سینے کی ہڈی کو کاٹ کر دل تک پہنچتے ہیں، جس کے باعث زخم بڑا ہوتا ہے اور صحت یابی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔یہ طریقہ تقریباً 60 سال سے استعمال ہو رہا ہے اور دل کی شریانوں کی بیماری کے علاج میں مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

نئے طریقے میں کم تکلیف

نئے کم تکلیف دہ طریقے میں سینے کے ایک طرف صرف 5 سے 7 سینٹی میٹر کا چھوٹا سا چیرا لگایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زخم کم ہوتا ہے اور جسم پر سرجری کا اثر بھی نسبتاً محدود رہتا ہے۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ اس طریقے سے علاج کروانے والے مریضوں کو خون کی منتقلی کی ضرورت کم پڑی جبکہ انہیں سانس لینے والی مشین پر بھی کم وقت گزارنا پڑا۔

مریض جلد معمول پر واپس آئے

ماہرین کے مطابق اگرچہ دونوں طریقوں میں درد اور اسپتال میں قیام کا دورانیہ تقریباً ایک جیسا رہا، لیکن جدید طریقے سے علاج کروانے والے مریضوں کی بحالی کا عمل بہتر دیکھا گیا۔

ڈاکٹر مارک ریوئل کا کہنا ہے کہ بائی پاس سرجری ایک مؤثر اور دیرپا علاج ہے، تاہم اس کی سب سے بڑی مشکل اس کا زیادہ تکلیف دہ اور جسم پر بڑا اثر ڈالنے والا طریقہ ہے، جسے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہر مریض کے لیے نہیں

ماہرین نے واضح کیا کہ نئی تکنیک ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہو سکتی۔ مریض کی حالت، بیماری کی نوعیت اور سرجن کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ضروری ہوگا۔

ٹورنٹو کے سنی بروک ہیلتھ سائنسز سینٹر کے سرجن ڈاکٹر اسٹیفن فریمز نے کہا کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کم تکلیف دہ بائی پاس سرجری ممکن ہے، تاہم اسے بڑے پیمانے پر عام کرنے سے پہلے مزید تجربات اور تربیت کی ضرورت ہوگی۔

کینیڈین مریضہ کی کامیابی

اوٹاوا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں 2018 میں یہی جدید سرجری کروانے والی مریضہ ڈیانا ولکنسن اس طریقے کو اپنی کامیابی قرار دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے تقریباً ایک ماہ بعد وہ نکاراگوا کا سفر کرنے کے قابل ہوئیں، جبکہ دو سال کے اندر انہوں نے افریقہ کی بلند ترین چوٹی کلیمنجارو بھی سر کر لی۔

دل کے علاج میں نئی امید

کینیڈا میں ہر سال ہزاروں افراد بائی پاس سرجری کرواتے ہیں، اور نئی تحقیق نے دل کے مریضوں کے لیے علاج کے ایک ایسے طریقے کی امید پیدا کی ہے جس میں کم تکلیف، چھوٹے زخم اور تیز بحالی کے امکانات موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ تکنیک دل کے علاج کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے، تاہم مریضوں کی حفاظت کو ہمیشہ اولین ترجیح رکھنا ضروری ہوگا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں