کیلگری (محمد امان اللہ): سٹی آف کیلگری نے کم آمدنی والے رہائشیوں کے لیے ایک اہم فلاحی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے Fair Entry پروگرام کے تحت اہل افراد کو ایک سال تک مفت ضروری نسخہ جاتی ادویات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ایسے شہریوں کی مدد کرنا ہے جو مالی مشکلات کے باعث اپنی ضروری ادویات خریدنے سے قاصر رہتے ہیں اور جن کے پاس نسخہ جاتی ادویات کی کوئی انشورنس کوریج موجود نہیں۔
یہ نیا پروگرام City of Calgary اور صحت سے متعلق غیر منافع بخش ادارے GreenShield کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اہل افراد کو منتخب ضروری ادویات 12 ماہ تک بلا معاوضہ فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ مالی دباؤ کے بغیر اپنا علاج جاری رکھ سکیں۔
سٹی آف کیلگری کے مطابق اس وقت 130 ہزار سے زائد رہائشی Fair Entry پروگرام کے ذریعے مختلف بلدیاتی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن میں رعایتی ٹرانزٹ پاس، تفریحی پروگراموں میں رعایت، پراپرٹی ٹیکس سے متعلق معاونت اور دیگر خدمات شامل ہیں۔ اب اس پروگرام میں مفت ضروری نسخہ جاتی ادویات کی سہولت بھی شامل کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں کم آمدنی والے افراد اور خاندانوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
میئر جیرومی فارکاس نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی شہری کو صرف مالی مجبوری کی وجہ سے اپنی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ صرف اس لیے اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سٹی آف کیلگری اور GreenShield کے درمیان یہ شراکت داری اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے شہریوں کی صحت بہتر بنانے اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کو فروغ ملے گا۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت صرف ان افراد کے لیے دستیاب ہوگی جو Fair Entry پروگرام کے اہل ہوں اور جن کے پاس نسخہ جاتی ادویات کی کوئی نجی یا سرکاری انشورنس کوریج موجود نہ ہو۔ درخواست دہندگان کو پروگرام کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جس کے بعد وہ ایک سال تک منتخب ضروری ادویات مفت حاصل کر سکیں گے۔
شہری اپنی اہلیت جاننے اور درخواست دینے کے لیے Fair Entry پروگرام کے ذریعے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ سٹی انتظامیہ نے اہل افراد سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ یا ان کے جاننے والے ادویات کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو اس نئی سہولت سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف کم آمدنی والے افراد پر مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ ادویات تک بروقت رسائی کے باعث بیماریوں کی پیچیدگیوں میں بھی کمی آنے کی توقع ہے، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔