اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں حکومت نے ایک اہم قانون سازی کا آغاز کرتے ہوئے گھڑیوں کی سالانہ تبدیلی ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس اقدام کے تحت صوبہ سال بھر ایک ہی وقت پر قائم رہے گا، جسے حکام نے “البرٹا وقت” کا نام دیا ہے۔
صوبائی وزیر Dale Nally نے جمعرات کے روز اسمبلی میں یہ مسودۂ قانون پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب اس معاملے پر طویل بحث کا وقت ختم ہو چکا ہے اور عملی قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے کئی دہائیوں سے جاری بحث اور مختلف آراء کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ Danielle Smith پہلے ہی عندیہ دے چکی تھیں کہ یہ قدم جلد اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی ایک وجہ پڑوسی صوبے برٹش کولمبیا کے حالیہ اقدامات کو بھی قرار دیا، جہاں گھڑیوں کی تبدیلی ختم کرنے کی سمت پیش رفت ہو رہی ہے۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یکم نومبر سے شہری اپنی گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے نہیں کریں گے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سردیوں کے دوران صبح کے اوقات زیادہ تاریک ہوں گے، جبکہ شام کے وقت روشنی زیادہ دیر تک برقرار رہے گی۔
وزیر کے مطابق اس تبدیلی سے لوگوں کو دن کے اختتام پر زیادہ وقت ملے گا، جس میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں گے یا دیگر سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ تاہم اس کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جیسے طلبہ کو سردیوں میں اندھیرے میں اسکول جانا پڑ سکتا ہے، اور قومی سطح پر نشر ہونے والے کھیلوں کے اوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
کھیلوں کے حوالے سے خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ شائقین اپنے پسندیدہ مقابلے دیکھنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے میچ دیر رات ہی کیوں نہ شروع ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ عوام اس تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ اگر نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ تعلیمی نظام، کاروباری سرگرمیوں اور کھیلوں کے شیڈول پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔