اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جہاں انوائرمنٹ کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ ہیٹ وارننگ بدھ سے نافذ ہے اور جمعے کے روز درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
انوائرمنٹ کینیڈا نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی علامات پر نظر رکھیں، جن میں سر درد، متلی، چکر آنا، شدید پیاس، گہرے رنگ کا پیشاب اور غیر معمولی تھکن شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں جانے سے گریز کرنے، گھروں کے پردے بند رکھنے اور ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
تاہم، حالیہ شدید طوفان کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب بہت سے شہری ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے سے بھی محروم ہیں۔ طوفان کے عروج پر 36 ہزار گھروں کی بجلی بند ہوگئی تھی، جبکہ جمعرات تک بھی 5,300 گھروں میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی۔
ہائیڈرو اوٹاوا کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال کرنے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔
ہائیڈرو اوٹاوا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برائس کونراڈ کے مطابق کوئنز وے کارلٹن اسپتال کے قریب ایک ہزار سے زائد صارفین اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلابی پانی کے باعث بجلی کا اہم سازوسامان زیر آب آ گیا ہے، جسے بحال کرنے کے لیے یا تو پانی نکالنا ہوگا یا پانی کی سطح کم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا، اور دونوں صورتوں میں وقت درکار ہوگا۔
دوسری جانب شہری انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ شدید بارش کے چند گھنٹوں کے اندر انہیں 1,900 تہہ خانوں (بیسمنٹس) میں پانی بھرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
اگرچہ کئی علاقوں میں نقصانات اب بھی موجود ہیں، تاہم سٹی کونسلر ٹم ٹیرنی نے جمعے کو بتایا کہ مجموعی صورتحال میں کافی بہتری آ چکی ہے۔ ان کے مطابق اب صرف چند درخت گرے ہوئے ہیں اور تقریباً ایک درجن مقامات پر ہی بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے بلدیاتی اداروں کو مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔