محمد عرفان اللہ 12 جولائی 2026
(اردو ورلڈ کینیڈا ویب نیوز اسلام آباد)
اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری بڑے سیکیورٹی آپریشن کے دوران 5 جولائی 2026 سے اب تک 88 شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں صوبے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد شروع کی گئیں اور ان کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق تازہ کارروائی میں مزید 9 شدت پسند مارے گئے، جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی۔ آپریشن میں پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور (FC)، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھی مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں متعدد اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی بھی شدت پسند گروہ کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک علاقے کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا لیا جاتا۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز ملک کے امن کے لیے بھرپور قربانیاں دے رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث حکومت نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور مقامی آبادی کے مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری آپریشن کے دوران مشتبہ ٹھکانوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملے گی وہاں فوری کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رہیں گے