اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں ڈاک کے نظام سے وابستہ ہزاروں ملازمین نے دو سال سے جاری مزدور کشمکش کے بعد بالآخر نئے پانچ سالہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
ملازمین کی بھاری اکثریت نے اس مجوزہ معاہدے کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے اس کی توثیق کر دی، جس کے بعد اجرتوں میں اضافے اور سروس میں استحکام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ملازمین کی نمائندہ یونین کے مطابق تقریباً پچپن ہزار ملازمین نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا، جن میں سے پانچ میں سے چار سے زائد نے معاہدے کے حق میں رائے دی۔ معاہدے کے تحت پہلے دو سالوں میں اجرتوں میں مجموعی طور پر تقریباً دس فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ اگلے تین سالوں میں تنخواہوں میں اضافہ افراطِ زر کے مطابق ہوگا۔ اس کے علاوہ ملازمین کے لیے مراعات کے پیکج میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔
دیہی اور مضافاتی علاقوں کے ڈاک بانٹنے والے عملے کی بڑی اکثریت نے اس معاہدے کی حمایت کی، جبکہ شہری علاقوں میں بھی بھاری اکثریت نے اسے قبول کیا۔ حکام کے مطابق فریقین جلد ہی ان معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کریں گے، جن کی مدت اکتیس جنوری دو ہزار انتیس تک ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی برسوں سے ڈاک کے شعبے میں شدید تنازعات، ہڑتالوں اور مذاکراتی رکاوٹوں کے باعث سروس متاثر ہو رہی تھی۔ سرکاری ڈاک کے ادارے کو مالی مشکلات اور خط و کتابت میں مسلسل کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث ادارے نے اپنے نظام میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔
ادارے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے نہ صرف سروس میں استحکام آئے گا بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ ان کے مطابق ادارے کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاکہ بڑھتی ہوئی مسابقت اور پارسل سروس کے بدلتے رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب مزدور یونین کے بعض رہنماؤں نے اگرچہ معاہدے کی مخالفت بھی کی تھی اور اس کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی تھی، تاہم اکثریت نے اسے منظور کر لیا۔ یونین قیادت کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مزید بہتر شرائط کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ قلیل مدت میں ادارے کے لیے استحکام کا باعث بنے گا، تاہم طویل مدت میں ادارے کو خط و کتابت کی کمی اور پارسل سروس میں مسابقت جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔