اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی سیاسی بحران کا حل فوجی کارروائی میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری میں ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ کسی کے دباؤ میں آ کر دوبارہ کسی پیچیدہ تنازع میں نہ الجھے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں ایک مجوزہ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام درحقیقت تعطل پیدا کرنے کے مترادف ہے اور اس سے خطے میں استحکام کے بجائے مزید پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہونے والی ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت سے متعلق تجاویز پر اپنی قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پیش کی گئی سفارشات اور تجاویز سے کمیٹی کے اراکین کو آگاہ کیا۔
انہوں نے اجلاس کے دوران خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور تازہ صورتحال سے شرکاء کو اعتماد میں لیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق کمیٹیوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے مفادات کو ہر صورت اولین ترجیح دی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، اور اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔