کینیڈا میں سوشل میڈیا اور اے آئی پر پابندی کی تجویز، ماہرینِ تعلیم کی مخالفت

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی نمایاں جامعات میک گل یونیورسٹی اور ٹورنٹو یونیورسٹی کے ماہرینِ تعلیم نے حکمران جماعت کی جانب سے سولہ سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پابندی کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے بہتر رہنمائی، تعلیم اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

رواں برس گیارہ فروری کو حکمران جماعت نے ایک غیر لازمی قرارداد منظور کی، جس میں تجویز دی گئی کہ کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ نظام کے استعمال کے لیے کم از کم عمر مقرر کی جائے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو نقصان دہ مواد سے بچانا اور ان کی ذہنی صحت کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق، نقصان دہ مواد کے خاتمے اور غیر محفوظ آن لائن روابط کی روک تھام کا پابند بنانے کی بات بھی کی گئی۔

ونسنٹ پاکین، جو میک گل یونیورسٹی میں نفسیات کے استاد ہیں، کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھنے کے بجائے انہیں بتدریج اس سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مکمل پابندی سے نوجوان خفیہ طور پر ان پلیٹ فارمز کا استعمال کریں گے، جس سے والدین اور اساتذہ کے لیے نگرانی مشکل ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ٹک ٹاک اور میٹا کو اپنے نظام میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہئیں جو صارفین کو کم لت میں مبتلا کریں اور انہیں مواد پر زیادہ کنٹرول فراہم کریں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر سائبر بدسلوکی، منفی تقابل اور بے قابو استعمال جیسے خطرات موجود ہیں۔

دوسری جانب اینگس ریڈ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پچہتر فیصد کینیڈین شہری سولہ سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ بہتر فیصد افراد کا کہنا ہے کہ بچوں کے استعمال کو والدین کو کنٹرول کرنا چاہیے، نہ کہ حکومت کو۔

امریکی قومی ادارہ صحت کے مطابق بارہ سے پندرہ سال کے وہ نوجوان جو روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن اور بے چینی کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ تاہم اسی ادارے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا خود اظہار، دوستیوں اور ذہنی معاونت کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ حکومتی تجویز میں چیٹ جی پی ٹی سمیت دیگر چیٹ نظاموں پر پابندی کی بات کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام بعض اوقات نوجوانوں کو غلط مشورے دے سکتے ہیں یا انہیں غیر مناسب گفتگو کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

ٹووی گروس مین، جو ٹورنٹو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ بچوں کو خطرات سے بچانا ضروری ہے، مگر مکمل پابندی سے انہیں جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی تعلیم سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت ایک اہم تعلیمی ذریعہ بن سکتی ہے۔

یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کینیڈا میں نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں پابندی اور تعلیم کے درمیان درست راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں