اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کے نتیجے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں جنگ بندی کو مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل رابطے کے پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کو وقتی طور پر مؤخر کیا جا رہا ہے، تاکہ ایرانی قیادت کو متفقہ تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آتی اور مذاکرات نتیجہ خیز مرحلے میں داخل نہیں ہو جاتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندرونی حالات غیر مستحکم ہیں اور وہاں قیادت میں تقسیم پائی جاتی ہے۔
مزید برآں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہے اور ایران درحقیقت اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ روزانہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی بحال کی جا سکے۔ ان کے مطابق ایران تقریباً پانچ سو ملین ڈالر یومیہ اس گزرگاہ سے حاصل کرتا ہے، اسی لیے وہ اسے بند رکھنے کے بجائے کھلا دیکھنا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولا گیا تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی، اور انتہائی سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔ اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ ایران کی جانب سے ردعمل نہ آنے کے باعث یہ دورہ مؤخر کیا گیا، تاہم امریکی حکام کے مطابق اس دورے کو کسی بھی وقت دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ اس نے ابھی تک اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اس وقت ہی مذاکرات میں شرکت کرے گا جب اسے یقین ہو جائے گا کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ تمام صورتحال خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے درمیان ایک اہم موڑ کی نشاندہی کر رہی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔