اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا میں صوبے کی کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کی درخواست کے سلسلے میں الیکشنز البرٹا نے دستخطوں کی تصدیق کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ درخواست رواں سال مئی کے آغاز میں جمع کرائی گئی تھی، تاہم صرف دو ہفتے بعد ایک جج نے فیصلہ دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ درخواست صوبائی قانون سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس معاملے پر فرسٹ نیشنز سے مشاورت ضروری ہے۔
بعد ازاں گزشتہ ہفتے درخواست گزار تنظیم اسٹے فری البرٹا کو عدالت سے جزوی کامیابی ملی، جب ایک دوسرے جج نے حکم دیا کہ ابتدائی فیصلے کے خلاف اپیل زیرِ سماعت رہنے کے دوران بھی دستخطوں کی تصدیق کا عمل جاری رکھا جائے۔
الیکشنز البرٹا کے مطابق درخواستی فارموں پر مشتمل تمام بکس بند الماریوں میں محفوظ رکھے گئے ہیں اور ان کی نگرانی سیکیورٹی اہلکار کر رہے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دستخطوں کی تصدیق کے نتائج 27 جولائی تک جاری کر دیے جائیں گے۔
درخواست جمع کرانے والی تنظیم اسٹے فری البرٹا کا دعویٰ ہے کہ اس نے تقریباً 3 لاکھ 2 ہزار دستخط جمع کیے ہیں، جو قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے درکار تقریباً 1 لاکھ 78 ہزار دستخطوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
دوسری جانب البرٹا کی پریمیئر Danielle Smith پہلے ہی 19 اکتوبر کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر چکی ہیں، جس میں البرٹا کے عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کے لیے دوسرے اور لازمی نوعیت کے ریفرنڈم کے عمل کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ چونکہ عدالتی اپیل کا عمل کئی ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لے سکتا ہے، اس لیے رواں موسم خزاں میں علیحدگی سے متعلق لازمی (بائنڈنگ) ریفرنڈم کرانا ممکن نہیں ہوگا۔