اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی نہ تو آسان عمل ہوگا اور نہ ہی اس کے نتائج بے ضرر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ علیحدگی کے حامی جس آسان حل کا تصور پیش کر رہے ہیں، حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
اوٹاوا میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کیلگری اسٹیمپیڈ میں شرکت کریں گے، جہاں وہ البرٹا کے عوام کو یہ پیغام دیں گے کہ کینیڈا سے علیحدگی کوئی "جادوئی حل” نہیں۔
مارک کارنی نے کہا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ایسے ریفرنڈمز میں عوام کو اکثر غیر حقیقی وعدے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "میں نے خود دیکھا کہ ایسے ریفرنڈمز میں لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ آسان ہوگا، آپ اپنا پاسپورٹ بھی رکھ سکیں گے، کرنسی بھی برقرار رہے گی اور ملک میں رہتے ہوئے بھی اس سے الگ ہو جائیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ البرٹا میں یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کینیڈا دنیا کے سامنے خود کو ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر علیحدگی کا عمل شروع ہوتا ہے تو کم از کم کئی برس تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، جبکہ دنیا پہلے ہی شدید غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے۔
البرٹا کے عوام 19 اکتوبر کو ووٹ دیں گے کہ آیا وہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا پھر علیحدگی سے متعلق ایک باضابطہ ریفرنڈم کرانے کی حمایت کرتے ہیں۔
مارک کارنی نے کہا کہ علیحدگی کا آپشن "بغیر کسی قیمت” کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک "خطرناک جوا” ہے۔
دوسری جانب البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ صوبہ کینیڈا کا حصہ ہی رہے، تاہم لاکھوں شہریوں کی درخواستوں کے بعد ریفرنڈم کرانا ان کی ذمہ داری بن گیا تھا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس ہفتے ان کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ سے بات ہوئی، جس میں مغربی ساحل تک بٹومن پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مقامی (انڈیجینس) اقوام، پڑوسی صوبہ برٹش کولمبیا، وفاقی حکومت اور غیر ملکی خریداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے، اور یہ سب کچھ صرف ایک متحد کینیڈا کی بدولت ممکن ہے۔
ادھر صوبے کے مختلف شہروں میں علیحدگی کے حامی اور مخالف گروپوں نے بل بورڈز، جھنڈوں اور پریڈز کے ذریعے اپنی اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس کے باعث سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ وفاقی حکومتوں پر ماضی میں البرٹا کی تیل و گیس صنعت کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کرتی رہی ہیں، جبکہ انہیں اپنی جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (UCP) کے اندر موجود علیحدگی پسند عناصر کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اسمتھ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، جس کی مثال بٹومن پائپ لائن سے متعلق وفاق کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ البرٹا کے عوام کی اکثریت کو قائل کر لیں گی کہ وہ کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیں۔