اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی پابندیوں اور سخت نگرانی کے دعوؤں کے باوجود گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیس سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے اس اہم بحری راستے پر مکمل نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آئے اور متعدد جہاز بلا رکاوٹ اس راستے سے گزر گئے۔
اس سے قبل امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ بندش کے ابتدائی چوبیس گھنٹوں میں چھ جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا، جبکہ کسی بھی ایرانی جہاز کو اس راستے سے گزرنے نہیں دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس بحری راستے کی نگرانی کے لیے دس ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو مسلسل گشت اور نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر عائد کی گئی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے علاوہ خلیج کے دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے لیے راستہ کھلا رکھا گیا ہے، تاہم ایران سے متعلق آمدورفت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک طرف سخت پابندیوں کے دعوے اور دوسری طرف جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال غیر واضح اور پیچیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔