اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے خلیج فارس میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات پر شدید تشویش کیا ہے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ نے کہا کہ سمندری تجارت پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس کی کوئی قانونی یا اخلاقی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ سعودی عرب کے شہر جدہ کے دورے کے دوران سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انیتا آنند نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری اور تجارتی اہداف کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور عالمی امن کے اصولوں کے منافی ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ایسے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو خطے کے استحکام اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال دیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں عدم استحکام کے اثرات صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائیاں کیں، جس کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں مختلف اہداف پر حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے خطے میں سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں کے باعث حالیہ جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق ان واقعات نے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ادھر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش ناک ہے اور امریکا کی حالیہ کارروائی کو موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب قرار دیا۔خلیج فارس میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، جبکہ سفارتی حلقے کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات اور تحمل پر زور دے رہے ہیں۔