اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز )کینیڈا میں تازہ بیریز، خصوصاً اسٹرابیری، رسبیری، بلیو بیریز اور بلیک بیریز، جو کبھی صرف گرمیوں کے موسم کی خاص سوغات سمجھی جاتی تھیں، اب سال بھر بچوں کی پسندیدہ خوراک بن چکی ہیں۔
تاہم ان پھلوں کی مسلسل خریداری نے والدین کے گھریلو بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے باعث سوشل میڈیا پر "بیری بجٹ” اور "بیری ٹیکس” جیسے الفاظ عام ہوتے جا رہے ہیں۔کینیڈا کے متعدد والدین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچے روزانہ بڑی مقدار میں بیریز کھاتے ہیں، جس کے باعث انہیں ہر ہفتے مہنگے داموں یہ پھل خریدنے پڑتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک والد نے لکھا کہ "صحت مند بچوں کی پرورش کے لیے الگ سے بیری بجٹ رکھنا پڑتا ہے”، جبکہ ایک اور والدہ نے بتایا کہ ان کے ننھے بیٹے نے ایک ہی دن میں تقریباً 20 ڈالر مالیت کی بیریز کھا لیں۔ کئی والدین مذاق میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو بچوں کی تعلیم یا مستقبل کے لیے بچت کرنا مشکل ہو جائے گا۔
خوراک اور ثقافت کے ماہر اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں فوڈ اسٹڈیز کے پروفیسر ڈینیئل بینڈر کے مطابق گزشتہ دو سے تین دہائیوں میں بیریز کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق جدید پیکنگ ٹیکنالوجی، شمالی امریکہ میں آزاد تجارتی معاہدوں، نقل و حمل برداشت کرنے والی نئی اقسام کی کاشت اور صارفین کی بدلتی غذائی ترجیحات نے بیریز کو موسمی پھل سے سال بھر دستیاب روزمرہ خوراک میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کی ایک قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے، کیونکہ اب پھلوں کی افزائش میں ذائقے کے بجائے انہیں طویل فاصلے تک محفوظ حالت میں پہنچانے کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول آج کی اسٹرابیری ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ضرور ہے، لیکن اس کا ذائقہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر موسم میں ہر پھل کی دستیابی نے بچوں کے لیے موسموں کی انفرادیت بھی کم کر دی ہے، کیونکہ جب جنوری میں بھی بلیک بیریز آسانی سے دستیاب ہوں تو گرمیوں کے پھلوں کی خاص اہمیت باقی نہیں رہتی۔
کینیڈا کی وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2000 میں فی کس تازہ بیریز کی دستیابی 3.09 کلوگرام تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 10.42 کلوگرام ہو گئی، یعنی تقریباً 237 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے میں اسٹرابیری کے ساتھ ساتھ بلیو بیریز، کرین بیریز، رسبیری اور دیگر اقسام کی بیریز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران سیب، مالٹے اور گریپ فروٹ جیسے روایتی پھلوں کی دستیابی میں کمی دیکھی گئی۔ادھر اوٹاوا سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی والدہ میلیسا اسپینجر نے بتایا کہ ان کے چھ سال سے کم عمر تینوں بچے اسٹرابیری، رسبیری اور بلیو بیریز بے حد شوق سے کھاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ صرف بیریز پر ہر ماہ تقریباً 70 کینیڈین ڈالر خرچ کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ پھل ہر ہفتے خریدتی ہیں اور اکثر بچوں کی خاطر خود کم مقدار میں کھاتی ہیں، یہاں تک کہ مہمانوں کو بھی بیریز پیش کرنے سے گریز کرتی ہیں تاکہ اخراجات قابو میں رہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ حالیہ مہینوں میں بیریز کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا، تاہم یہ اب بھی نسبتاً مہنگے پھل شمار ہوتے ہیں۔ جون کے دوران کینیڈا میں 454 گرام اسٹرابیری کی اوسط قیمت 5.73 کینیڈین ڈالر رہی، جو مئی کے مقابلے میں تقریباً 4.9 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ موسمی تبدیلی کے باعث درآمدی اسٹرابیری سے مقامی پیداوار کی طرف منتقلی کی وجہ سے ہوا ہے، تاہم اگر مقامی فصل بہتر رہی تو موسم گرما کے دوران قیمتوں میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح ماضی میں کیلا، کیوی اور انناس جیسے پھل آہستہ آہستہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے تھے، اسی طرح بیریز بھی اب کینیڈا میں ایک عام خوراک بن چکی ہیں۔ تاہم اس بڑھتی مقبولیت کے ساتھ والدین کو اپنے ماہانہ اخراجات میں اضافہ اور غذائی ترجیحات میں آنے والی تبدیلیوں جیسے نئے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔