اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت محدود کرنے سے متعلق اپنے متنازع صدارتی حکم نامے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اقدام ان کی سخت امیگریشن پالیسی کو دوبارہ قانونی حیثیت دلانے کی ایک نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر خودکار شہریت دینے کا موجودہ نظام غلط ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس کوشش کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کو خودکار شہریت سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی تھی۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ صدارتی حکم امریکی آئین کی چودھویں ترمیم سے مطابقت نہیں رکھتا، جس کے تحت امریکی عملداری میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا تھا۔ فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انصاف کا قتل” قرار دیا اور کہا کہ امریکی شہریت فروخت یا غلط استعمال کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق امریکی سپریم کورٹ اپنے حتمی فیصلوں پر نظرثانی کی درخواستیں بہت کم قبول کرتی ہے، جبکہ کئی دہائیوں سے کسی باقاعدہ سماعت کے بعد سنائے گئے فیصلے پر دوبارہ سماعت کی مثال بھی نہایت نایاب ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کی نئی قانونی کوشش کو ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دوسری مرتبہ منصب سنبھالنے کے پہلے ہی روز ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس کے ذریعے پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ اقدام ان کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ تھا، جس کا مقصد قانونی اور غیر قانونی امیگریشن کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لانا تھا۔