اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی جماعت لیبر پارٹی کی قیادت اور وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس بریفنگ کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے مفاد اور کارکنوں کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔کیئر اسٹارمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ لیبر پارٹی کمزور ہو چکی ہے اور عوامی حمایت کھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی بہتری اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے وہ لیبر پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہو رہے ہیں۔برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے آج صبح بادشاہ کنگ چارلس سوم سے بھی گفتگو کی ہے اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لیبر پارٹی کے نئے قائد کے انتخاب اور اقتدار کی منتقلی کے عمل کی تکمیل تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ آنے والے وزیراعظم اور نئی قیادت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور اقتدار کی منظم، پرامن اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے اقتدار کی ذمہ دارانہ منتقلی انتہائی اہم ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کو حالیہ مہینوں میں اپنی جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی تنقید، مقامی انتخابات میں مایوس کن نتائج اور عوامی مقبولیت میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہی عوامل کو ان کے استعفے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں اپنی جماعت لیبر پارٹی کو تاریخی کامیابی دلائی تھی۔ اس کامیابی کے نتیجے میں لیبر پارٹی تقریباً 14 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آئی تھی اور کنزرویٹو پارٹی کے طویل دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی تھی تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کو معاشی دباؤ، عوامی خدمات کے مسائل اور سیاسی اختلافات سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔استعفے کے اعلان کے بعد اب لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے۔ مختلف سیاسی شخصیات کو ممکنہ امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی کی جانب سے انتخابی طریقہ کار اور ٹائم لائن کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانیہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک اور سیاسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اور ملک کی سیاسی توجہ اب لیبر پارٹی کے نئے قائد اور مستقبل کے وزیراعظم کے انتخاب پر مرکوز ہو گئی ہے۔