اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے بڑھتے ہوئے معاشی، سماجی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کینیڈا کو نئے ادارے قائم کرنا ہوں گے اور پرانے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات ٹورنٹو میں منعقدہ عالمی ترقیاتی عملی اجلاس کے اختتامی خطاب میں کہی، جس میں کینیڈا کے وفاقی وزراء سمیت امریکا اور یورپ کی اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
مارک کارنی نے کہا کہ مہنگائی، رہائشی بحران، ہجرت اور مصنوعی ذہانت جیسے مسائل نے دنیا بھر میں لوگوں میں بے یقینی اور بے بسی کا احساس بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تقسیم اور شکایات پر مبنی سیاست فروغ پا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے دور کے مسائل پرانے طریقوں سے حل نہیں ہو سکتے، اسی لیے جدید اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور درمیانے درجے کی طاقت رکھنے والے ممالک کو نئے اتحاد قائم کرنا ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے بدلتے حالات کے مطابق نئے معاشی اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں یورپی ممالک سمیت دیگر خطوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا اور سرکاری زمین پر ہزاروں نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
مارک کارنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صاف اور کم خرچ توانائی کے حصول کے ساتھ ساتھ تمام دستیاب توانائی ذرائع سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے، جن میں قدرتی گیس بھی شامل ہے۔
انہوں نے حکومت کے نئے قومی سرمایہ فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے بڑے قومی منصوبوں کو مالی معاونت دی جائے گی جبکہ عام شہری بھی اس میں سرمایہ کاری کر کے منافع حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحرانوں کا مقابلہ صرف جرات مندانہ فیصلوں اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے، کیونکہ ترقی پسند قوتوں کو محض تنقید کے بجائے تعمیر اور بہتری کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے ترقی پسند رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں نے عالمی معیشت، جمہوریت اور سماجی مسائل پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔