اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں بڑھتی عمر کے ساتھ گھر چھوٹا کرنے کا رجحان اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، کیونکہ بہت سے ریٹائرڈ افراد کے لیے یہ منصوبہ اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
عام طور پر بچے گھر سے چلے جانے کے بعد بڑی رہائش گاہوں کی دیکھ بھال مشکل ہو جاتی ہے، اور لوگ چاہتے ہیں کہ وہ کسی فلیٹ یا چھوٹے بنگلے میں منتقل ہو کر بچت کر سکیں۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ خواب کئی افراد کے لیے مؤخر ہو رہا ہے۔
رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق ملک میں سست ہوتی مارکیٹ، گھروں کی قیمتوں میں کمی، اور چھوٹے رہائشی یونٹس کی کمی نے اس رجحان کو متاثر کیا ہے۔ ٹورنٹو کے بروکر اور رئیل اسٹیٹ ماہر ٹم سیرینوس کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے مناسب سائز کی رہائش تلاش کرنا مسلسل مشکل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے بڑے گھروں میں ہی رہنے پر مجبور ہیں۔
ایک سروے کے مطابق صرف دس فیصد کینیڈین شہری اگلے دس سالوں میں گھر چھوٹا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح مزید کم ہے۔ اکثریت اپنے موجودہ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی منصوبہ بندی میں برسوں سے چھوٹے اور قابلِ استعمال گھروں کی کمی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، خاص طور پر وہ فلیٹس جو ریٹائرڈ افراد کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ ماضی میں بہت چھوٹے یونٹس کی تعمیر نے بھی اس مسئلے کا مکمل حل فراہم نہیں کیا۔
مالی ماہر بین مک کیب کے مطابق موجودہ معاشی حالات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں گھروں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، اور بہت سے افراد اپنے گھروں کی اصل قیمت سے کم رقم پر فروخت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ جائیداد کی فروخت اور منتقلی کے اخراجات بھی ایک بڑا بوجھ ہیں، جو بعض اوقات فروخت کی مجموعی آمدنی کا ایک بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث کئی ریٹائرڈ افراد اپنے بچوں اور خاندان کی مالی مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ان کی اپنی بچت متاثر ہو رہی ہے۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں جب نئی رہائشی سپلائی مارکیٹ میں آئے گی اور قیمتیں مزید مستحکم ہوں گی تو گھر چھوٹا کرنے کا رجحان دوبارہ بڑھ سکتا ہے، مگر فی الحال یہ منصوبہ زیادہ تر افراد کے لیے مؤخر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔