اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث بھارت میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ۔
حکومت نے ایک گاڑی یا صارف کو روزانہ 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ خام تیل کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
صورتحال سے نمٹنے کے لیے مودی حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی بھی گاڑی یا صارف کو روزانہ 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت نہ کریں۔ اس کے علاوہ تجارتی اور بڑے صنعتی صارفین کو عام ریٹیل پیٹرول پمپس سے ایندھن خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے تاکہ عام صارفین کے لیے ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی نے حکام کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال عالمی تیل منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ان کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ایشیائی ممالک کو بھی ایندھن کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ڈیزل کی فروخت پر عائد یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور حالات معمول پر آنے کے بعد ان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم موجودہ صورتحال نے بھارت میں توانائی کے تحفظ اور درآمدی تیل پر انحصار سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔