اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے چار مختلف ٹیکس سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے اور اضافی سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کو درپیش معاشی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور انہیں ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آمدنی کے چار مختلف سلیبز میں شامل تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن حاصل کرنے والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن حاصل کرنے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔مزید برآں 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کے لیے بھی ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا، ان کی قابلِ استعمال آمدن میں اضافہ کرنا اور موجودہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس اصلاحات کے اس پیکیج سے لاکھوں تنخواہ دار افراد مستفید ہوں گے اور معیشت میں خریداری کی قوت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔