اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی مبینہ جارحانہ کارروائیوں کے تناظر میں خلیجی ممالک کو سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود اور تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کے استعمال میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ اگر ایران کی سلامتی یا خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کے منبع، حملوں میں استعمال ہونے والے فوجی اڈوں، لاجسٹک مراکز اور معاون سہولیات کو بھی ممکنہ اہداف کے طور پر نشانہ بنا سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جو مراکز یا تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوں گی، انہیں دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے خلیجی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تنظیم، عملدرآمد یا کسی بھی قسم کی معاونت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ خلیجی ممالک کی قانونی، اخلاقی اور ہمسائیگی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود کو کسی بھی جارحانہ مقصد کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے کے ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں ملوث نہ ہوں کیونکہ ایسی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
ایران نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، مگر تنازعات کے پرامن حل کو بھی اہمیت دیتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور اس کا مقصد خلیجی ممالک کو ممکنہ فوجی تنازع میں فریق بننے سے خبردار کرنا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو اس کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا علاقائی امن کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔