اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ایران کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنا ناممکن ہے۔
اگر امریکا کا موجودہ رویہ برقرار رہا، تو مذاکرات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ابراہیم عزیزی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کو ایران جنگ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے، اور صرف اس صورت میں مذاکرات پر اعتراض نہیں ہوگا جب امریکا سنجیدگی اور مذاکرات کے اصولوں کی پابندی دکھائے۔چیئرمین کمیٹی نے سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اور عملی فریم ورک کی غیر موجودگی کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا "ایران کو امریکا کی طرف سے سنجیدہ ارادہ نہیں دکھائی دیتا جس میں کوئی قابل عمل فریم ورک تشکیل پا سکے۔
ایران کے منجمد اثاثے اس کی ایک واضح مثال ہیں۔” یورینیم افزودگی اور جوہری معاملات پر اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اور اس مرحلے پر یہ مسائل مذاکرات کا مقصد نہیں ہیں۔امن معاہدے کے بارے میں عزیزی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب امریکا کا رویہ مثبت ہو اور ایران کی شرائط کو عملی طور پر پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا:”اعتماد کے بغیر مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں۔ مذاکرات کا تسلسل ممکن نہ ہو تو فطری طور پر کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔
۔”چیئرمین نے واضح کیا کہ اگر ایران کی طے کردہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات، اقتصادی معاملات اور لبنان کے مسئلے میں عملی پیش رفت نظر آئے، تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ایسا نہ ہوا تو ایران مزاحمتی محاذ اور اس کے ارکان، خاص طور پر لبنان کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔