اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)بدھ کے روز اوٹاوا میں برٹش کولمبیا، البرٹا اور کینیڈا کی وفاقی قیادت کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات میں ویسٹ کوسٹ تک ممکنہ نئی پائپ لائن سمیت کئی کلیدی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو شرکا نے مجموعی طور پر “حد درجہ دوستانہ” ماحول میں ہونے والی گفتگو قرار دیا۔
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اوٹاوا میں برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ایبی اور وزیر اعظم مارک کارنی سے ملاقات کی۔ اگرچہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ویسٹ کوسٹ پائپ لائن کے معاملے پر ایبی اور اسمتھ کے درمیان سخت بیانات اور اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم بدھ کے اجلاس کے بعد ایبی نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کا لہجہ مہذب، شائستہ اور غیر معمولی طور پر دوستانہ تھا۔
ڈیوڈ ایبی نے ایک بار پھر اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک اس پائپ لائن کے لیے اس قدر جلد بازی قبل از وقت ہے، کیونکہ اب تک کوئی نجی کمپنی اس منصوبے کی مالی معاونت کے لیے سامنے نہیں آئی اور نہ ہی پائپ لائن کا حتمی راستہ طے کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ مراحل میں البرٹا کی جانب سے مزید تفصیلات سننے کے منتظر ہیں، اور وزیر اعلیٰ اسمتھ کی جانب سے انہیں پیش رفت سے باخبر رکھنے کے وعدے کا خیر مقدم کیا۔
تاہم ایبی نے واضح کیا کہ وہ اس منصوبے پر کسی باضابطہ مذاکرات میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے بقول، “یہ البرٹا کی ذمہ داری ہے، یہ ان کا منصوبہ ہے۔ وہی اسے آگے لا رہے ہیں، وہی تجویز دے رہے ہیں اور وفاقی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔”
ایبی نے نئی پائپ لائن سے متعلق اپنے خدشات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ویسٹ کوسٹ پر آئل ٹینکر پابندی ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں، اور اس طرح کے منصوبے کے فرسٹ نیشنز کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آئینی طور پر کسی نئی پائپ لائن کی منظوری کا حتمی اختیار وفاقی حکومت، خصوصاً وزیر اعظم کے پاس ہے۔ ایبی نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ وزیر اعظم مارک کارنی اس منصوبے کو اس بڑے توانائی معاہدے کا حصہ سمجھتے ہیں جو گزشتہ سال کے آخر میں انہوں نے وزیر اعلیٰ اسمتھ کے ساتھ طے کیا تھا۔
ایبی کے مطابق، “اصل مقصد ایک دوسرے کے اختلافات کا احترام کرنا اور جہاں ممکن ہو مشترکہ مفادات کے تحت آگے بڑھنا ہے۔ وزیر اعلیٰ اسمتھ کو میری پوزیشن بخوبی معلوم ہے، اور مجھے ان کی۔ ہم اپنے اختلافات کو اس بات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے کہ ہم دیگر مشترکہ امور پر مل کر کام کریں۔”
دوسری جانب، وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ پائپ لائن واحد موضوع نہیں تھا۔ ان کے مطابق، تینوں رہنماؤں کے درمیان برٹش کولمبیا اور البرٹا کے درمیان بجلی کے رابطوں، نیوکلیئر توانائی، اور ویسٹ کوسٹ تک موجودہ بٹومن پائپ لائن میں ممکنہ توسیع جیسے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔
اسمتھ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ اور ایبی پائپ لائن کے معاملے پر کسی سمجھوتے یا اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ منصوبے کو وفاقی حکومت کے میجر پروجیکٹس آفس میں پیش کرنے سے قبل ابھی بہت سا کام باقی ہے، جس میں فرسٹ نیشنز سے مشاورت بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بدھ کے روز دونوں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ان کی بات چیت مثبت رہی، اور تینوں رہنما کینیڈا کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر متفق ہیں