اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں معالج کی مدد سے زندگی کے اختتام کا قانون سترہ جون دو ہزار سولہ کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے نئے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جو اکتیس دسمبر دو ہزار چوبیس تک کے ہیں، اور یہ تازہ ترین سرکاری معلومات سمجھی جاتی ہیں۔
قانون کے نفاذ کے بعد اب تک چھیہتر ہزار چار سو پچھتر افراد نے معالج کی مدد سے اپنی زندگی کا اختتام کیا ہے۔ یہ تعداد دو ہزار سولہ سے دو ہزار چوبیس کے آخر تک کی ہے۔
دو ہزار چوبیس میں اس عمل میں حصہ لینے والے ماہرینِ صحت کی تعداد دو ہزار دو سو چھیاسٹھ رہی، جن میں سے ترانوے اعشاریہ دو فیصد ڈاکٹر جبکہ چھ اعشاریہ آٹھ فیصد نرس پریکٹیشنرز شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں مجموعی اموات کا تقریباً پانچ فیصد اسی طریقہ کار کے تحت ہو رہا ہے۔دو ہزار اکیس میں اس قانون میں ایک نئی درجہ بندی شامل کی گئی جسے دوسرا درجہ کہا جاتا ہے۔ پہلے درجے میں وہ مریض شامل ہوتے ہیں جن کی موت کا امکان فوری اور واضح ہو، جبکہ دوسرے درجے میں وہ افراد شامل ہیں جن کی موت فوری طور پر متوقع نہیں ہوتی لیکن وہ شدید اور ناقابلِ برداشت تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔
مریضوں کی اوسط عمر ستتر اعشاریہ نو سال رہی۔ پہلے درجے کے مریضوں کی اوسط عمر اٹھہتر سال جبکہ دوسرے درجے کے مریضوں کی اوسط عمر پچھتر اعشاریہ نو سال ریکارڈ کی گئی۔
دو ہزار چوبیس میں سولہ ہزار چار سو ننانوے افراد نے اس سہولت کے تحت اپنی زندگی کا اختتام کیا۔ ان میں سے پندرہ ہزار سات سو ستاسٹھ افراد کی موت کو طبی طور پر متوقع قرار دیا گیا تھا، جبکہ ان میں سے دس ہزار پینتیس افراد کینسر کے مریض تھے۔
اسی سال سات سو بتیس افراد ایسے تھے جن کی موت کو فوری طور پر متوقع نہیں سمجھا گیا۔ ان میں سے تین سو اڑسٹھ افراد اعصابی بیماریوں میں مبتلا تھے۔
دوسرے درجے کے مریضوں کے لیے کم از کم نوے دن کا انتظار لازمی قرار دیا گیا ہے، یعنی تشخیص اور عملدرآمد کے درمیان کم از کم تین ماہ کا وقفہ ضروری ہوتا ہے۔
دو ہزار چوبیس میں ایک ہزار تین سو ستائیس افراد ایسے تھے جنہیں اس عمل کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ جبکہ چھ سو بانوے افراد نے خود اپنی درخواست واپس لے لی۔
اس کے علاوہ اڑسٹھ افراد ایسے تھے جو عمل سے بالکل پہلے اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔ چار ہزار سترہ افراد ایسے بھی تھے جو اس عمل کی خواہش رکھتے تھے لیکن عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کی قدرتی موت واقع ہو گئی۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار ستائیس میں اس قانون کو مزید توسیع دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت صرف ذہنی بیماری کو بنیاد بنا کر بھی اس سہولت تک رسائی دی جا سکتی ہے، تاہم یہ معاملہ شدید بحث اور اختلاف کا شکار ہے اور اس پر حتمی فیصلہ بار بار مؤخر کیا جا رہا ہے۔