اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پیر کی صبح ہونے والی فائرنگ کے واقعے، جس میں ایک پولیس اہلکار، ایک شہری اور حملہ آور ہلاک ہو گئے، کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہ بات صوبۂ کیوبیک کے وزیر برائے عوامی تحفظ ایان لافرینیئر نے تصدیق کرتے ہوئے کہی۔
مونٹریال کے علاقے کوٹ دے نیژ (Côte-des-Neiges) میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد شہر میں کئی گھنٹوں تک ایکٹیو شوٹر الرٹ جاری رہا اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔
فائرنگ کے دوران ایک اور پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا، جس کی حالت بعد ازاں تشویشناک سے مستحکم قرار دی گئی، جبکہ ایک شہری معمولی زخمی بھی ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ بعد ازاں مونٹریال پولیس (SPVM) نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والا پولیس اہلکار 34 سالہ محمد لامین بین ردوان تھا، جو 2021 سے پولیس فورس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔
وزیر ایان لافرینیئر نے بتایا کہ مختلف پولیس اداروں نے دن بھر معلومات اکٹھی کیں اور تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ نہیں سمجھا جا رہا۔
اس سے قبل مونٹریال پولیس کے سربراہ فادی داغر نے پولیس اہلکار اور ایک شہری کی ہلاکت کو "بدترین خوابوں میں سے ایک” قرار دیا تھا۔
محمد لامین بین ردوان کی ہلاکت مونٹریال میں 2002 کے بعد دورانِ ڈیوٹی کسی پولیس اہلکار کی پہلی ہلاکت ہے۔
فادی داغر نے کہا، "وہ ایک بہترین پولیس افسر تھا، اپنے کام سے بے حد محبت کرتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اہلکار کے بھائی سے بات کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل لمحہ تھا۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے شہری کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ اسے کس کی گولی لگی۔ وزیر لافرینیئر نے اس حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ آیا شہری پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا یا نہیں۔
دوسری جانب، سینٹر فار اسرائیل اینڈ جیوش افیئرز (CIJA) نے تصدیق کی کہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والا شہری مائیکل (میشل) موشے مزراحی تھا۔
ادارے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مزراحی مونٹریال کی یہودی برادری کے ایک محبوب رکن تھے اور وہ اس افسوسناک واقعے کے بے گناہ متاثرین میں شامل تھے۔
پولیس کے مطابق انہیں صبح تقریباً 11 بج کر 35 منٹ پر ایک شہری کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ ٹرانس آئی لینڈ اور ڈی کورٹرے ایونیو کے قریب واقع ہلٹن ہوٹل کی ایک کھڑکی سے بندوق کی نال باہر نکلی ہوئی دیکھی گئی ہے۔
پولیس چیف فادی داغر نے بتایا کہ جب پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تو ملزم عمارت کی بالائی منزلوں پر نہیں بلکہ گراؤنڈ فلور پر موجود تھا، جہاں اس نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور دونوں جانب سے گولیاں چلنے لگیں۔واقعے کے بعد ہلٹن ہوٹل کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں بھی دیکھی گئیں، جنہیں ابتدائی فائرنگ کا مقام سمجھا جا رہا ہے۔
وزیر ایان لافرینیئر نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا حملہ آور نے خود 911 پر کال کی تھی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات سے متعلق سوالات کے جوابات آزاد تحقیقاتی ادارہ بی ای آئی (BEI) فراہم کرے گا۔