اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ملک کے بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید برفباری کے باعث وادیاں، پہاڑ اور درخت سفید چادر میں ڈھک گئے، جبکہ سرد موسم نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ مسلسل برفباری کے باعث کئی علاقوں میں ہر شے جم کر رہ گئی اور درجۂ حرارت بدستور نقطۂ انجماد سے نیچے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
مری میں برف کے سفید گالے گرنے سے سیاحوں کی دلچسپی اور تفریح میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم آزاد کشمیر میں شدید برفباری کے باعث متعدد اہم شاہراہیں بند ہو گئیں۔ باغ اور پیر چناسی کی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ لیپہ ویلی جانے والی شاہراہ کو کھولنے کے لیے مشینری کے ذریعے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔
مظفرآباد سے تاؤ بٹ کو ملانے والی سڑک کئی روز گزرنے کے باوجود تاحال بند ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح راولاکوٹ سے تولی پیر جانے والی شاہراہ بھی برفباری کے باعث بند ہو گئی۔ شدید موسمی صورتحال کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں 19 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ 47 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
کشمیر، خیبر پختونخوا اور خطہ پوٹھوہار کے بعض علاقوں میں ہلکی اور درمیانی بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔ مظفرآباد، گڑھی دوپٹہ، کوٹلی، مری، منگلا اور مالم جبہ میں بادل برسے، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ بالائی علاقوں میں درجۂ حرارت مسلسل نقطۂ انجماد سے نیچے رہنے کے باعث سرد لہر برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لہہ میں درجۂ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قلات اور پارا چنار میں پارا منفی 7 تک گر گیا۔ گوپس، مالم جبہ اور استور میں درجۂ حرارت منفی 6، نتھیا گلی اور کالام میں منفی 5 جبکہ سکردو میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
حکام نے عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بند سڑکوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔