اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے سوال اٹھایا ہے کہ مغربی کینیڈا کے صوبائی وزرائے اعلیٰ کا اجلاس البرٹا میں ایسے وقت کیوں ہو رہا ہے جب میزبان صوبے کی حکومت علیحدگی کے امکان پر بات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت اس بات کے لیے انتہائی نازک ہے کہ ملک کو جوڑنے والے تعلقات کو آزمایا جائے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات ان لوگوں کو تقویت دیتے ہیں جو ملک کو تقسیم کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ سالانہ اجلاس ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب البرٹا میں علیحدگی کے حوالے سے عوامی رائے شماری کے امکانات پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اکتوبر میں ایک سوال پر رائے شماری ہوگی جس میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
ڈیوڈ ایبی نے اس تجویز کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ اجلاس کا مقصد باہمی تجارت کی رکاوٹیں دور کرنا، قومی دفاع کے معاملات اور معاشی راہداریوں پر بات چیت کرنا تھا، لیکن رائے شماری کے اعلان نے ان موضوعات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود ملک کو توڑنے کا وقت نہیں ہوتا، کیونکہ کینیڈا ایک خاندان کی مانند ہے جہاں اختلافات تو ہوتے ہیں مگر تعلقات قائم رہتے ہیں۔
اجلاس میں برٹش کولمبیا، البرٹا، سسکاچیوان، مانیٹوبا، شمال مغربی علاقوں اور یوکون کے رہنما شریک ہیں، جبکہ نوناووٹ کے وزیرِاعلیٰ نے آن لائن شرکت کی۔
دوسری جانب ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ مغربی ساحل تک تیل کی پائپ لائن جیسے منصوبوں کو روکا گیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف پالیسیوں نے البرٹا کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بندرگاہیں صرف کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہیں، اور انہیں قومی مفاد میں استعمال ہونا چاہیے۔
اس صورتحال کے درمیان البرٹا حکومت ایک نئے تیل پائپ لائن منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے جو برٹش کولمبیا کے راستے ساحل تک جائے گا۔ اس منصوبے کو ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم برٹش کولمبیا اس کی مخالفت کر رہا ہے، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں ٹینکرز پر پابندی کے حوالے سے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال کینیڈا کے وفاقی ڈھانچے کے لیے ایک اہم امتحان بن چکی ہے، جس میں اختلافات اور معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔