اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے باوجود اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی حصص بازاروں میں بہتری دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ آیا۔ تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امن معاہدہ قریب ہے اور ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، لیکن ایران نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری ذخیرہ کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ اگر امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی اور اس راستے سے گزرنے کیلئے ایران کی اجازت ضروری ہوگی۔ انہوں نے امریکی بیانات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوؤں سے نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی مذاکرات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا یا بند ہونا محض بیانات سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کا فیصلہ عملی میدان میں کیا جاتا ہے، اور ایران کی مسلح افواج ہر صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کے مطابق اس اہم گزرگاہ میں آمدورفت جنگ بندی کی پابندی سے مشروط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن قوتوں یا فوجی جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران نے زور دیا ہے کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور اگر خطے میں حالات تبدیل ہوئے، خصوصاً لبنان کے حوالے سے، تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔