اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دنیا بھر میں جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ہوائی سفر کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ صورتحال گرمیوں کے عروج کے سفری موسم تک برقرار رہ سکتی ہے۔
اس بحران کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی طویل بندش رہی، جس کے باعث تیل کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
اگرچہ ایران کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب تجارتی جہازوں کیلئے کھول دی گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی ترسیل کو معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ جیٹ ایندھن کی پیداوار کو مکمل بحالی میں اس سے بھی زیادہ وقت درکار ہوگا کیونکہ خطے کی ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ہوابازی کے ماہر رک ایرکسن کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست مسافروں پر پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار چھبیس کی گرمیوں میں سستے ٹکٹ تقریباً نایاب ہوں گے اور مسافروں کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
کینیڈا کی بڑی فضائی کمپنی ایئر کینیڈا سمیت متعدد اداروں نے پہلے ہی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے اور فی ٹکٹ پچیس سے ساٹھ ڈالر تک اضافی ایندھن سرچارج عائد کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے سامان کی فیس میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور بعض پروازوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، جن میں ٹورنٹو اور مونٹریال سے نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈہ کیلئے پروازیں عارضی طور پر معطل کرنا شامل ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ایران تنازع کے آغاز سے اب تک جیٹ ایندھن کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں، جس کے باعث کم منافع بخش روٹس پر پروازیں جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ بحران صرف کینیڈا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر فضائی کمپنیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ جرمنی کی لوفتھانزا اور نیدرلینڈز کی کے ایل ایم سمیت کئی اداروں نے اپنی پروازوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی متعدد کمپنیوں نے بھی گنجائش کم کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ کینیڈا اپنی ضروریات کا بڑا حصہ خود پیدا کرتا ہے، پھر بھی عالمی منڈی کی قیمتوں کے باعث مقامی سطح پر ایندھن سستا نہیں ہو پاتا۔ ماہرِ ہوابازی جان گریڈیک کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین عالمی سطح پر ہوتا ہے، اسی لیے مقامی خود کفالت کے باوجود عوام کو مہنگا ایندھن خریدنا پڑتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے کئی ممالک کو آئندہ چند ہفتوں میں جیٹ ایندھن کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے فضائی سفر مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہوابازی کی تاریخ کے بدترین ایندھن بحرانوں میں سے ایک بن سکتی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔