اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت ہے اور تہران کسی بھی صورت اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا۔
سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف 60 روزہ عارضی استثنا دیا گیا ہے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی نرمی اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے اور امریکا کو یہ تاثر دینے سے گریز کرنا چاہیے کہ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عسکری نوعیت دے دی ہے۔ ان کے بقول ایران کسی بھی قیمت پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
قالیباف نے آبنائے ہرمز کو "خدا کی عطا کردہ نعمت” اور ایران کا سب سے مؤثر تزویراتی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے انتظامی اور قانونی معاملات پر ایران اور عمان کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچ بنیادی شقوں پر عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔ ان شقوں میں لبنان میں جنگ بندی، ایرانی تیل کی برآمدات کو یقینی بنانا اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ رابطہ سیل قائم کرنے پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں، جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہے۔
محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے، جو ان کے بقول مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی حکمت عملی کے نتائج کا ثبوت ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام، دفاعی صلاحیتیں اور یورینیم افزودگی کا حق کسی بھی صورت امریکا کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق یورینیم افزودگی ایران کا قانونی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اگر امریکا اور اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو مذاکرات جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔