اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی تنصیبات سمیت مجموعی طور پر 85 اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس بھی نشانہ بنائے گئے۔
ایرانی فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا نے اسی روز صوبہ ہرمزگان اور ماہشہر میں ساحلی اور غیر فوجی مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد یہ جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کو ابتدائی جواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر فضائی حملے کر کے اس تاریخی موقع کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی عوام اور مسلح افواج اس دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
دوسری جانب اس دعوے پر امریکا، بحرین یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں کی نوعیت، نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ایران و امریکا کے درمیان جاری بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔