اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے ایک نئی سفارتی تجویز سامنے آئی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کو کم کرنے اور فوری طور پر جنگ کے خاتمے پر توجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر کے بعد کے مرحلے میں رکھا جائے تاکہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تعطل کا شکار ہیں اور ایرانی قیادت کے اندر بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق کس حد تک لچک دکھائی جائے۔
ایرانی تجویز میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے آبنائے ہرمز سے متعلق بحران کو حل کیا جائے اور خطے میں کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی یا فوجی کشیدگی کو ختم کیا جائے۔ اس کے بعد یا تو جنگ بندی کو طویل مدت کے لیے بڑھایا جائے یا مکمل طور پر جنگ کے خاتمے پر اتفاق کیا جائے، جبکہ جوہری معاملات پر بات چیت بعد میں کی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد فوری انسانی اور معاشی دباؤ کو کم کرنا اور براہِ راست تصادم کے خطرے کو ٹالنا ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم ہو جاتی ہے تو امریکی فریق اپنی مذاکراتی برتری کھو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ ایران کو جوہری سرگرمیوں پر مزید پابندیوں پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم آج وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اس صورتحال پر اہم اجلاس کرے گی، جس میں ایرانی تجویز اور آئندہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق یہ نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہے۔ اس میں فوری کشیدگی کم کرنے، ممکنہ ناکہ بندی کے خاتمے اور مذاکراتی ماحول کو بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس پر عملی طور پر غور کرنے یا اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔