اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی جہازوں کو قبضے میں لینے کے معاملے پر اقوام متحدہ سے شدید احتجاج کیا ہے اور ان جہازوں کا فوری قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط ارسال کیا، جس میں امریکی ناکہ بندی کو بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ عمل بین الاقوامی تجارت میں غیر قانونی مداخلت اور املاک پر قبضہ ہے۔ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا کے اقدامات کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس معاملے پر عالمی سطح پر آواز اٹھائے گا اور ان کے جہازوں کی آزادی بحال کرنے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
ایرانی افواج نے بھی امریکی اقدامات کے حوالے سے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمنیا نے کہا کہ امریکا سے جنگ بندی کے باوجود ایران اسے مکمل طور پر ختم نہیں سمجھتا، اور ایرانی افواج مسلسل تیاریوں اور اہداف کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمان نے اطلاع دی ہے کہ بحیرہ عرب میں ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے والے مشتبہ جہازوں کی تلاشی جاری ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکی افواج نے بلیو اسٹار تھری نامی جہاز کو روک کر تلاشی لی، اور اب تک 39 جہازوں کو رُخ موڑنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔چاہ بہار میں پھنسے 20 سے زائد جہازامریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تجارت معطل ہو گئی ہے اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں 20 سے زائد جہاز پھنس گئے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کی تجارت کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائے ہیں، جس سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے ایرانی جہازوں کی بندش کو غیر قانونی قرار دے اور ان کی آزادی بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے۔