اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مغربی کینیڈا اور شمالی علاقوں کے پریمیئرز پیر اور منگل کو صوبہ البرٹا کے علاقے کناناسکس میں جمع ہو رہے ہیں، جہاں تجارت، معیشت، توانائی، دفاع اور باہمی تعلقات پر گفتگو کی جائے گی۔ تاہم اس اجلاس پر سب سے زیادہ سایہ صوبہ البرٹا میں علیحدگی پسند بحث نے ڈالا ہوا ہے۔
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ انیس اکتوبر کو ایک عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا، جس میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ آیا صوبہ کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا علیحدگی کے لیے مستقبل میں ایک پابند ریفرنڈم کی حمایت کرتا ہے۔
پریمیئر کے ترجمان سیم بلیکٹ کے مطابق اجلاس میں مغربی خطے کی معاشی صلاحیت، توانائی کے تحفظ اور قومی تعمیر کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اسمتھ کا کہنا ہے کہ مغربی صوبوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
دوسری جانب صوبہ برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ عجیب صورتحال ہے کہ کینیڈا کی قیادت ایک ایسے صوبے میں جمع ہو رہی ہے جہاں کی حکومت ملک چھوڑنے کی بحث چھیڑ رہی ہے۔
صوبہ مانیٹوبا کے پریمیئر واب کینیو نے کہا کہ ان کا سب سے اہم پیغام کینیڈا سے محبت کا اظہار ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر رہنما بھی اتحاد کی حمایت کریں گے اور البرٹا میں علیحدگی کے ریفرنڈم کی ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی۔
اس دوران کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے مغربی ساحل تک بٹومین پائپ لائن منصوبے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ ایشیائی منڈیوں تک تیل کی رسائی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کاربن قیمتوں سے متعلق نرم شرائط بھی شامل ہیں۔
تاہم برٹش کولمبیا اس پائپ لائن کی مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ مجوزہ راستہ اس کے علاقے سے گزر کر ساحل تک پہنچے گا۔ ڈیوڈ ایبی نے واضح کیا کہ وہ البرٹا کے منصوبوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حمایت چاہتے ہیں۔
ڈینیئل اسمتھ نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم مارک کارنی اپنی سیاسی صلاحیتوں اور مالی معاونت کے ذریعے برٹش کولمبیا کو قائل کر لیں گے تاکہ یہ منصوبہ آگے بڑھ سکے۔ اختلافات کے باوجود اطلاعات ہیں کہ اسمتھ اجلاس میں ایبی کو روایتی کاؤ بوائے جوتوں کا تحفہ بھی دیں گی۔
اجلاس میں ساسکچیوان، شمال مغربی علاقے اور یوکون کے پریمیئرز بھی شریک ہوں گے، جبکہ نوناؤٹ کے پریمیئر جان مین آن لائن شرکت کریں گے۔
شمالی علاقوں کی جانب سے آرکٹک سلامتی اور دفاعی اخراجات پر بھی زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے نیٹو اہداف کے مطابق دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔