اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی حکومت نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑے تحقیقی ادارے کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد صوبے بھر کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔
اس منصوبے کے تحت خصوصی تعلیمی کٹس تیار کی جائیں گی جو مختلف جماعتوں کے طلبہ کے لیے موزوں ہوں گی۔ یہ کٹس موجودہ نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی اور اساتذہ کو بھی مصنوعی ذہانت کے بارے میں اپنی معلومات بڑھانے میں مدد دیں گی۔ اس کے علاوہ تعلیمی ماہرین اور دیگر متعلقہ شعبوں سے مشاورت بھی کی جائے گی تاکہ یہ مواد مزید مؤثر اور کارآمد بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر تعلیم و نگہداشتِ اطفال دیمیتریوس نکولائیڈیز نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں کام کرنے، سیکھنے اور زندگی گزارنے کے طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو اس میدان میں بروقت اور ذمہ دارانہ تعلیم فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس عمل میں رازداری، سلامتی اور تعلیمی دیانت داری کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے گا۔
اس منصوبے کے لیے حکومت نے تین برس کے دوران خطیر رقم مختص کی ہے تاکہ اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے لیے جدید وسائل کی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ صوبائی وزیر برائے ٹیکنالوجی و اختراع نیٹ گلوبش کے مطابق یہ اقدام البرٹا کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلانے میں مدد دے گا اور نئی نسل کو مستقبل کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔
ادارہ جو اس منصوبے میں شامل ہے، کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ ادارے کے سربراہ کیم لنکے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے وقت کی ایک بنیادی مہارت بن چکی ہے، اور اساتذہ کی مناسب تربیت کے ذریعے طلبہ کو نہ صرف اس میدان میں شامل کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں قیادت کے لیے بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ تعلیمی نظام میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا، جو طلبہ کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے گا اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنائے گا۔