اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں 11 سالہ آٹسٹک بچے پارکر کی المناک موت کے بعد لاپتا اور خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر ایمرجنسی الرٹ سسٹم میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولی ایور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ ایسے بچوں کے لاپتا ہونے پر فوری عوامی الرٹ جاری کیا جا سکے، چاہے اغوا کے شواہد موجود نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
وفاقی وزیر کو خط
پیئر پولی ایور اور کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ مائیک لیک نے جمعرات کو وفاقی وزیر برائے ایمرجنسی مینجمنٹ ایلینور اولشفسکی کو مشترکہ خط ارسال کیا۔خط میں مطالبہ کیا گیا کہ پورے کینیڈا میں ایمرجنسی الرٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے، پولیس اور ریسکیو اداروں کی تربیت کو جدید بنایا جائے، تلاش کے طریقہ کار میں بہتری لائی جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح اختیارات دیے جائیں تاکہ خطرے سے دوچار بچوں کے لیے بروقت الرٹ جاری کیا جا سکے۔
ذاتی تجربے نے سوچ بدل دی
سی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے پیئر پولی ایور نے کہا کہ ان کی سات سالہ بیٹی بھی آٹزم کا شکار ہے اور زیادہ بات نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بیٹی کبھی گھر سے نکل جائے تو وہ خود بھی اسی خوف اور پریشانی کا سامنا کریں گے جس سے پارکر کے والدین گزرے۔ان کے مطابق اسی احساس نے انہیں اس مسئلے پر فوری اقدامات کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا۔
اغوا نہ بھی ہو، پھر بھی الرٹ جاری ہو
پولی ایور کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام صرف ان کیسز میں فوری الرٹ جاری کرتا ہے جہاں اغوا کا شبہ ہو، جبکہ آٹسٹک یا دیگر کمزور بچوں کے لیے اصل خطرہ ان کا بھٹک جانا بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام کا محور جرم نہیں بلکہ بچے کی جان کو لاحق خطرہ ہونا چاہیے۔ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایسا قومی فریم ورک تیار کرنا چاہیے جس کے تحت ضرورت پڑنے پر فوری الرٹ جاری کیا جا سکے۔
پارکر کا افسوسناک انجام
11 سالہ پارکر 16 جولائی کو ایک خصوصی نگہداشت کے مرکز سے لاپتا ہو گیا تھا، جس کے بعد پولیس، تربیت یافتہ ریسکیو ٹیموں اور سینکڑوں رضاکاروں نے وسیع پیمانے پر تلاش شروع کی۔
یہ بھی پڑھیں :کنزرویٹو کنونشن نے پیئر پولیور کو نئی طاقت دی، پارلیمان میں لبرلز اور مارک کارنی کی برتری برقرار
تاہم کئی روز بعد ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت پارکر کے طور پر ہوئی، جس کی تصدیق البرٹا کے چیف میڈیکل آفیسر نے کر دی۔پارکر کے لاپتا ہونے کے فوراً بعد ایمبر الرٹ جاری نہیں کیا گیا کیونکہ پولیس کے پاس اغوا کے شواہد موجود نہیں تھے۔بعد ازاں دو دن بعد صوبائی حکومت کی خصوصی منظوری کے بعد ایمرجنسی الرٹ جاری کیا گیا۔
‘انڈیگو الرٹ’ کی تجویز
پارکر کے واقعے کے بعد متعدد والدین اور سماجی تنظیموں نے خصوصی ضروریات کے حامل لاپتا بچوں کے لیے الگ "انڈیگو الرٹ” متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ایمبر الرٹ نظام کو وسعت دے کر ایسے کیسز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جن میں اغوا ثابت نہ ہو لیکن بچے کی جان کو واضح خطرہ لاحق ہو۔
حکومت کا ردعمل
وفاقی وزیر ایمرجنسی مینجمنٹ ایلینور اولشفسکی نے کہا کہ وہ اس خط میں اٹھائے گئے نکات کو اہم سمجھتی ہیں اور آئندہ ہفتے مائیک لیک سے ملاقات کر کے تجاویز پر بات کریں گی۔
انہوں نے بتایا کہ نووا اسکاٹیا ماس کیجولٹی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں قومی ایمرجنسی الرٹ سسٹم کو مزید مؤثر اور قابل اعتماد بنانے پر پہلے ہی کام جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ الرٹ جاری کرنے کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کے پاس ہے، تاہم وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
البرٹا بھی قانون میں تبدیلی پر غور کرنے لگا
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ان کی حکومت پولیس کو براہ راست ایمرجنسی الرٹ جاری کرنے کے مزید اختیارات دینے کے لیے قانون میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ان کے مطابق موسم خزاں میں اس حوالے سے ضروری قانونی ترامیم پیش کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کی رائے
کینیڈا کی مسنگ چلڈرن سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر امانڈا پک کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے الرٹس کی ضرورت موجود ہے، تاہم انہیں ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے عوام میں "الرٹ تھکن” پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
پولی ایور نے اس خدشے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واضح ضوابط بنا کر صرف حقیقی خطرے کی صورت میں الرٹ جاری کیے جا سکتے ہیں۔
قومی سطح پر شعور اجاگر ہونے کی امید
کیلگری سے تعلق رکھنے والی آٹسٹک بچوں کی والدہ اور سماجی کارکن اسٹیفنی کاراس نے کہا کہ پارکر کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، لیکن اس کے بعد پورے ملک میں اس مسئلے پر سنجیدہ بحث شروع ہونا خوش آئند پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس، ریسکیو اہلکاروں اور عوام کو خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے رویوں اور ضروریات کے بارے میں بہتر آگاہی دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بچوں کو بروقت اور محفوظ طریقے سے تلاش کیا جا سکے۔